Breaking News

کیا ریاست کو یہ حق حاصل ہے قربانیاں دینے والی سیاسی جماعتوں کا مذاق اڑائے؟ فضل الرحمٰن

کیا ریاست کو یہ حق حاصل ہے  قربانیاں دینے والی سیاسی جماعتوں کا مذاق اڑائے؟ فضل الرحمٰن
۴ گھنٹے پہلے

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے دہشتگردی کے خلاف حکومتی پالیسی پر سوالات اٹھاتے ہوئے پارلیمنٹ کا اِن کیمرا اجلاس بلانے کا مطالبہ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے ماحول میں ان کی جماعت کے تقریباً 250 علما اور کارکن شہید ہوئے، اس لیے ملک کی سلامتی کے لیے دی گئی قربانیوں کا مذاق نہیں اڑایا جانا چاہیے۔

 

 مولانا فضل الرحمٰن نے دہشتگردی کے خلاف متفقہ قومی پالیسی بنانے، عوام کو اعتماد میں لینے اور حکومتی اقدامات کا جائزہ لینے پر زور دیتے ہوئے سعودی عرب پر حملوں کی مذمت اور ریاض میں ہونے والے مبینہ حملے کے متاثرین سے اظہارِ یکجہتی بھی کیا۔ 

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ان کی جماعت نے دہشتگردی کے خلاف جدوجہد میں بھاری جانی قربانیاں دی ہیں۔ 

انہوں نے بتایا کہ دہشتگردی کے ماحول میں جمعیت علمائے اسلام کے تقریباً 250 علما اور کارکن شہید ہوئے۔ 

مولانا فضل الرحمٰن نے سوال اٹھایا کہ کیا ریاست کو یہ حق حاصل ہے کہ ملک کے وفادار لوگوں اور ملک کی سلامتی کے لیے قربانیاں دینے والی سیاسی جماعتوں کا مذاق اڑائے؟ 

ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی کی قربانیوں کا مذاق نہیں اڑا رہے بلکہ پالیسیوں میں اصلاح کے لیے تنقید کر رہے ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ ان کی خواہش نہیں کہ ملک میں ایسی بحث شروع ہو جس کے نتیجے میں دہشتگردی کے خلاف دی گئی قربانیاں متنازع بن جائیں۔ 

مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ کا اِن کیمرا اجلاس بلایا جائے اور ملک کی موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا جائے۔ 

انہوں نے سوال اٹھایا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف مطلوبہ کامیابیاں کیوں حاصل نہیں کر پا رہا؟ 

جے یو آئی کے سربراہ نے کہا کہ حکومت ان کی تجویز قبول کرے، اِن کیمرا اجلاس بلائے اور انہیں بھی سمجھائے کہ ملک کو درپیش حالات اور موجودہ پالیسیوں کی حقیقت کیا ہے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ حکومت قوم کو اعتماد میں کیوں نہیں لیتی؟ 

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اگر قوم سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ دہشتگردی کے خلاف لشکر بنائے اور مورچوں میں بیٹھ کر مقابلہ کرے تو پہلے اسے اعتماد میں لینا ضروری ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ قوم کو اعتماد میں لینے کے لیے پارلیمنٹ ہی مناسب پلیٹ فارم ہے۔ 

ان کے مطابق قومی سلامتی اور دہشتگردی جیسے معاملات پر تمام متعلقہ فریقوں کو مشاورت کے ذریعے متفقہ بیانیہ اور پالیسی تشکیل دینی چاہیے۔ 

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ذمہ دار اداروں کو ملک یا سیاستدانوں کا مذاق نہیں اڑانا چاہیے۔ 

انہوں نے کہا کہ انہیں یہ تاثر مل رہا ہے کہ بعض باتیں ان کا نام لیے بغیر انہی کے حوالے سے کی جا رہی ہیں۔ 

ان کا کہنا تھا کہ وہ ریاست کے وفادار ہیں، لیکن اگر اتنی قربانیوں کے باوجود جبر کا سامنا کرنا پڑے تو اختلاف کرنا ان کا حق ہے۔ 

انہوں نے واضح کیا کہ ان کی تنقید کا مقصد دہشتگردی کے خلاف قربانیوں کی نفی نہیں بلکہ متعلقہ پالیسیوں کی اصلاح ہے۔ 

مولانا فضل الرحمٰن نے اپنی جماعت کی سیاسی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 1973 کا آئین منظور ہونے کے بعد ملک بھر میں ایمرجنسی نافذ کی گئی تھی۔ 

ان کے مطابق اس فیصلے کے خلاف ان کی جماعت نے احتجاج کیا اور ان کے والد نے بھی استعفیٰ دیا تھا۔ 

انہوں نے کہا کہ بعض اقدامات جمہوری اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔ 

دہشتگردی کو جواز بنانے کے معاملے پر سوال اٹھاتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ کیا بلوچستان میں دہشتگردی موجود نہیں؟ 

انہوں نے کہا کہ اگر ان کے بیانیے سے اختلاف ہے تو قومی سطح پر مشاورت کرکے متفقہ بیانیہ اور پالیسی بنائی جائے۔ 

جے یو آئی کے سربراہ نے کہا کہ وہ ماضی میں بھی اپوزیشن میں رہے اور مختلف مقامات پر احتجاج کرتے رہے ہیں۔ 

انہوں نے اپنی 6 ماہ کی قید کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں جیل بھی جانا پڑا تھا۔ 

مولانا فضل الرحمٰن نے دہشتگردی کے خلاف عالمی اتحاد میں شامل ہونے کے ماضی کے فیصلے کا بھی ذکر کیا۔ 

مولانا فضل الرحمٰن نے سیاسی رابطوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے مطالبات واضح ہوگئے تھے اور معاملات کو سنبھال لیا گیا تھا۔ 

انہوں نے وزیراعظم کے معمولات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف رات کو جلد سو جاتے ہیں اور صبح جلد اٹھ جاتے ہیں۔ 

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ نے حکومت کے بااختیار ہونے سے متعلق بھی تنقیدی بات کی، تاہم فراہم کردہ بیان میں اس جملے کی مکمل تفصیل موجود نہیں۔ 

مولانا فضل الرحمٰن نے سعودی عرب پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی سعودی عرب پر حملہ کرتا ہے تو وہ اس کی مذمت کرتے ہیں۔ 

انہوں نے ریاض میں ہونے والے ایک مبینہ حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے میں احرام باندھے عمرہ کرنے والے افراد شہید ہوئے تھے۔ 

مولانا فضل الرحمٰن نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کا دوست ملک ہے اور وہ سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہیں۔ 

پریس کانفرنس کے دوران مولانا فضل الرحمٰن نے ایک مرتبہ پھر دہشتگردی کے خلاف متفقہ پالیسی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ 

انہوں نے کہا کہ عوام کو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں شامل کرنے سے پہلے انہیں اعتماد میں لینا ہوگا۔ 

ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں قومی سلامتی سے متعلق صورتحال اور پالیسیوں کا جائزہ لیا جائے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ دہشتگردی کے خلاف مطلوبہ نتائج کیوں حاصل نہیں ہو رہے۔ 

مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت پر زور دیا کہ قومی سطح پر اعتماد پیدا کرنے اور متفقہ مؤقف اختیار کرنے کے لیے پارلیمنٹ کو مرکزی کردار دیا جائے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں