World

وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو جلاوطنی کے بعد وطن واپس پہنچ گئیں

وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو جلاوطنی کے بعد وطن واپس پہنچ گئیں
۱ منٹ پہلے

وینزویلا کی اپوزیشن رہنما اور نوبیل امن انعام یافتہ ماریا کورینا ماچاڈو 10 ماہ سے زائد عرصے کی جلاوطنی کے بعد وطن واپس پہنچ گئی ہیں، جہاں ان کے حامیوں نے ان کا پُرجوش استقبال کیا۔ ماچاڈو کی واپسی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سابق صدر نکولس مادورو کی اقتدار سے برطرفی کے بعد ملک میں جمہوری انتقالِ اقتدار، نئے انتخابات اور امریکہ کے ساتھ تعلقات سے متعلق غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ 

ماریا کورینا ماچاڈو نے اتوار کی شب سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں ان کے حامی وینزویلا کے پرچم لہراتے، خوشی کا اظہار کرتے اور ان کی گاڑی کے گرد جمع دکھائی دیے۔ 

دارالحکومت کراکس پہنچنے پر بھی بڑی تعداد میں شہری ان کے استقبال کے لیے سڑکوں، شاہراہوں اور پلوں پر جمع ہوگئے۔ 

ماچاڈو گزشتہ برس دسمبر میں ناروے گئی تھیں، جہاں انہوں نے جمہوری حقوق کے فروغ کے لیے 2025 کا نوبیل امن انعام وصول کیا تھا۔ 

وہ حالیہ برسوں میں وینزویلا میں جمہوریت کی بحالی کی ایک نمایاں آواز بن کر سامنے آئی ہیں اور سابق صدر نکولس مادورو کی حکومت کی سخت مخالف رہی ہیں۔ 

2024 کے متنازع صدارتی انتخابات کے بعد ماچاڈو زیادہ تر روپوش رہیں۔ ان انتخابات میں حکومتی کنٹرول میں کام کرنے والے انتخابی حکام نے مادورو کو کامیاب قرار دیا تھا، جس کے نتیجے میں وہ اقتدار پر برقرار رہے۔ 

رپورٹ کے مطابق جنوری 2026 میں امریکی خصوصی فورسز کی کارروائی کے بعد نکولس مادورو کو اقتدار سے ہٹا کر گرفتار کرلیا گیا۔ 

اس کے بعد امریکہ نے وینزویلا کی عبوری حکومت کے ساتھ سیاسی مفاہمت اور جمہوری انتقالِ اقتدار کے لیے مذاکرات شروع کیے، تاہم اب تک ماریا کورینا ماچاڈو کو ان مذاکرات میں شامل نہیں کیا گیا۔ 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ماچاڈو کی وطن واپسی سے لاعلمی کا اظہار کیا اور ان کی سلامتی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ 

ٹرمپ انتظامیہ اس وقت عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز کے ساتھ کام کررہی ہے، جنہوں نے امریکی مطالبات کے تحت مختلف سیاسی اور معاشی اصلاحات پر عمل درآمد کیا ہے۔ ان اقدامات میں سیکڑوں سیاسی قیدیوں کی رہائی بھی شامل بتائی گئی ہے۔ 

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ واشنگٹن وینزویلا کی تمام سیاسی جماعتوں کی آزادیوں کے احترام اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔ 

دوسری جانب ماچاڈو کی جماعت کے مطابق ان کی وطن واپسی کا بنیادی مقصد جمہوری انتقالِ اقتدار کو آگے بڑھانا اور ملک میں نئے انتخابات کے انعقاد کی راہ ہموار کرنا ہے۔ 

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ماچاڈو اس سے قبل بھی کئی مرتبہ وطن واپس آنے کی کوشش کرچکی تھیں، تاہم انہیں ملک میں داخلے کی اجازت نہیں ملی تھی۔ 

ان کی واپسی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب وینزویلا کے سیاسی مستقبل اور امریکہ کے ساتھ تعلقات پر مختلف سوالات موجود ہیں۔ 

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے مادورو کی برطرفی کے بعد وینزویلا کے تیل کے ذخائر پر امریکی کنٹرول بڑھانے کے لیے ایک معاہدہ بھی کیا، جس پر ماچاڈو نے سوالات اٹھائے تھے۔ 

عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز اقوامِ متحدہ میں نئے انتخابات کرانے اور ملک میں مکمل جمہوریت بحال کرنے کا وعدہ کرچکی ہیں، تاہم ووٹنگ کے لیے اب تک کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی۔ 

ماریا کورینا ماچاڈو کی وطن واپسی کے بعد وینزویلا کے جمہوری عمل میں ان کے ممکنہ کردار اور آئندہ انتخابات میں شرکت سے متعلق نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ 

تاہم ملک میں انتخابات کے شیڈول، عبوری سیاسی انتظامات اور امریکہ کے ساتھ مستقبل کے تعلقات سے متعلق غیر یقینی صورتحال بدستور برقرار ہے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں