World

ریاض پر حوثیوں کا بیلسٹک میزائل حملہ ناکام، صنعاء میں میزائل لانچرز تباہ

ریاض پر حوثیوں کا بیلسٹک میزائل حملہ ناکام، صنعاء میں میزائل لانچرز تباہ
۱ منٹ پہلے

سعودی عرب کی قیادت میں قائم عسکری اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ دارالحکومت ریاض پر حوثیوں کا بیلسٹک میزائل حملہ ناکام بنانے کے بعد یمن کے دارالحکومت صنعاء میں جوابی کارروائی کرتے ہوئے دو میزائل لانچرز تباہ کردیے گئے ہیں۔

 

 سعودی حکام کے مطابق گزشتہ دو روز کے دوران مختلف شہروں کی جانب داغے گئے متعدد میزائل اور ڈرونز بھی تباہ کیے گئے، جبکہ اتوار کو میزائلوں کا ملبہ گرنے سے دو افراد زخمی اور تین رہائشی عمارتوں سمیت سات گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ 

عرب نیوز کے مطابق سعودی اتحادی فوج نے صنعاء میں حوثیوں کے دو میزائل لانچرز کو نشانہ بنایا، جن میں وہ لانچر بھی شامل تھا جس سے مبینہ طور پر ریاض کی جانب بیلسٹک میزائل فائر کیا گیا تھا۔ 

سعودی قیادت میں قائم عسکری اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ حوثیوں کے میزائل نیٹ ورک کو تباہ کرنے کے لیے فوجی کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ 

ان کے مطابق یہ کارروائیاں حوثیوں کے مسلسل حملوں اور شہری آبادیوں کو نشانہ بنانے کی مبینہ کوششوں کے جواب میں کی جارہی ہیں۔ 

اس سے قبل پیر کی علی الصبح سعودی عسکری اتحاد نے اعلان کیا تھا کہ فضائی دفاعی نظاموں نے حوثی گروہ کی جانب سے ریاض کی طرف داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل کو فضا میں روک کر تباہ کردیا۔ 

ترجمان ترکی المالکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں میزائل تباہ کرنے کی تصدیق کی، تاہم ابتدائی بیان میں اس کے ملبے یا ممکنہ نقصان کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ 

عرب نیوز کے مطابق ریاض میں مقامی وقت کے مطابق علی الصبح 3 بج کر 42 منٹ پر شہریوں کے موبائل فون پر سعودی محکمہ شہری دفاع کی جانب سے فضائی خطرے کا انتباہ جاری کیا گیا۔ 

تاہم چند منٹ بعد شہریوں کو دوسرا پیغام موصول ہوا، جس میں بتایا گیا کہ خطرہ ٹل گیا ہے۔ 

سعودی حکام کے مطابق گزشتہ دو روز کے دوران ریاض سمیت مختلف شہروں کی جانب داغے گئے متعدد میزائلوں اور ڈرونز کو بھی فضائی دفاعی نظاموں نے تباہ کیا ہے۔ 

دوسری جانب اتوار کو سعودی عرب کے جنوبی علاقوں خمیس مشیط اور احد رفیدہ میں دو بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنے کے بعد ان کا ملبہ زمین پر گرا۔ 

سعودی محکمہ شہری دفاع کے مطابق ملبہ گرنے سے ایک سعودی شہری اور ایک ایشیائی باشندہ زخمی ہوگئے، جبکہ تین رہائشی عمارتوں اور سات گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔ 

اس سے قبل ہفتے کے روز مغربی سعودی عرب کے متعدد علاقوں میں بھی میزائلوں کا ملبہ گرنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ 

ان مقامات میں وادی المغمس بھی شامل ہے، جو مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام سے تقریباً 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ 

اس کے علاوہ جدہ کے علاقے النزہ، طائف کی وادی جلیل اور صوبہ رابغ کے مرکز مستورہ میں بھی میزائلوں کا ملبہ گرنے کی اطلاع دی گئی، تاہم ان واقعات میں کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔ 

حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات کے بعد ریاض، جنوبی سعودی عرب اور مغربی علاقوں میں سیکیورٹی سے متعلق خدشات بڑھ گئے ہیں، جبکہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سمیت مقدس مقامات کی سلامتی کے حوالے سے بھی تشویش ظاہر کی جارہی ہے۔ 

سعودی عسکری اتحاد کا مؤقف ہے کہ حوثیوں کے میزائل نظام اور لانچرز کے خلاف کارروائیوں کا مقصد مزید حملوں کو روکنا اور شہری آبادیوں کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ 

 

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں