World

ایران سے مذاکرات کی بحالی کیلئے جے ڈی وینس کا محسن رضائی کو خط، امریکی میڈیا کا دعویٰ

ایران سے مذاکرات کی بحالی کیلئے جے ڈی وینس کا محسن رضائی کو خط، امریکی میڈیا کا دعویٰ
۱۹ گھنٹے پہلے

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی کو مبینہ طور پر خط لکھا ہے۔ 

 

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق خط میں ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کو ممکنہ امریکی فوجی کارروائی روکنے کے لیے ضروری قرار دیا گیا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خط کے مقصد کے بارے میں مختلف مؤقف پیش کیا ہے۔ 

امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ نائب صدر جے ڈی وینس نے محسن رضائی کو خط بھیج کر واشنگٹن اور تہران کے درمیان تعطل کا شکار سفارتی رابطے بحال کرنے کی کوشش کی۔ 

رپورٹ کے مطابق امریکی نائب صدر نے خط میں زور دیا کہ ایران کے خلاف ممکنہ امریکی فوجی حملوں کو روکنے کے لیے ہونے والے کسی بھی مذاکرات میں جوہری پروگرام پر بات چیت لازمی ہوگی اور اس معاملے کو نظرانداز کرکے مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکتے۔ 

ایگزیوس کے مطابق خط بھیجنے کی تجویز خود جے ڈی وینس نے پیش کی تھی تاکہ ایران کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے امکانات کا اندازہ لگایا جاسکے۔ 

امریکی ویب سائٹ نے ایک عہدیدار کے حوالے سے یہ بھی بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نائب صدر کی اس تجویز کا خیرمقدم کیا تھا۔ 

اس سے قبل امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل بھی خط کی ترسیل سے متعلق خبر شائع کرچکا تھا۔ 

دوسری جانب نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ جے ڈی وینس کا خط گزشتہ ہفتے قطر کے ثالثوں کے ذریعے ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی تک پہنچایا گیا۔ 

اخبار کے مطابق امریکی نائب صدر نے خط میں ایران کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی تجویز دی اور ان مذاکرات کی ذاتی طور پر قیادت کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کی۔ 

تاہم بدھ کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے خط کے حوالے سے مختلف وضاحت پیش کی۔ 

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ نائب صدر کے خط کا تعلق ایران کو ادویات اور طبی سامان کی فراہمی میں مدد دینے سے تھا۔ 

ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ سفارتی روابط کی اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب خطے میں مختلف ممالک کی سفارتی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔ 

گزشتہ ہفتے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران کا دورہ کیا تھا۔ 

اسی دوران قطری وفد کی ایرانی دارالحکومت آمد کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں، تاہم پاسدارانِ انقلاب کے قریب سمجھے جانے والے ذرائع ابلاغ نے قطری وفد کے تہران پہنچنے کی تردید کی تھی۔ 

دوسری جانب نشریاتی ادارے العربیہ نے بدھ کی شب رپورٹ کیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل ترکیہ کی میزبانی میں ایک اجلاس منعقد کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ 

العربیہ کے مطابق مجوزہ مذاکرات میں ایران کا جوہری پروگرام بھی ممکنہ ایجنڈے کا حصہ ہوگا۔ 

امریکی میڈیا میں سامنے آنے والی ان اطلاعات کے باوجود ایران اور امریکا کے درمیان براہ راست مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے کسی باضابطہ معاہدے کی تصدیق نہیں ہوئی۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں