Business

اکتوبر میں مہنگائی ساڑھے 9 سے ساڑھے 10 فیصد رہنے کا امکان، وزارت خزانہ

اکتوبر میں مہنگائی ساڑھے 9 سے ساڑھے 10 فیصد رہنے کا امکان، وزارت خزانہ
۱۶ گھنٹے پہلے

وزارت خزانہ نے ماہانہ اکنامک اپ ڈیٹ اینڈ آؤٹ لک رپورٹ جاری کرتے ہوئے اکتوبر 2026 میں مہنگائی کی شرح 9.5 سے 10.5 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ 

 

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026-27 کے دوران پاکستان کی معیشت میں بحالی متوقع ہے، جس میں زرعی پیداوار میں بہتری، ترسیلات زر میں اضافے اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ سے مدد مل سکتی ہے۔ 

وزارت خزانہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فصلوں کی بہتر پیداوار سے دیہی علاقوں میں آمدنی بڑھنے اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافے کی توقع ہے، جبکہ زرعی شعبے کی بہتر کارکردگی مجموعی معیشت کو سہارا دے سکتی ہے۔ 

رپورٹ کے مطابق ستمبر میں مہنگائی کی شرح میں کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم اکتوبر میں یہ شرح ساڑھے 9 سے ساڑھے 10 فیصد کے درمیان رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ 

وزارت خزانہ نے واضح کیا ہے کہ آئندہ مہنگائی کی صورتحال کا انحصار بڑی حد تک عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں اور ملک میں خوراک کی دستیابی پر ہوگا۔ 

رپورٹ میں توقع ظاہر کی گئی ہے کہ زرعی پیداوار میں اضافے سے فوڈ پروسیسنگ کی صنعت کو فائدہ پہنچے گا، جبکہ تعمیراتی سرگرمیوں میں بہتری سے دیگر معاشی شعبوں میں بھی کاروباری سرگرمیاں بڑھ سکتی ہیں۔ 

اسی طرح بعض بڑی صنعتوں میں پیداوار میں اضافے کی توقع ہے، تاہم وزارت خزانہ کے مطابق صنعتی شعبے کی بحالی یکساں نہیں اور مختلف صنعتوں کی کارکردگی میں فرق موجود ہے۔ 

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشینری کی درآمدات بڑھنے سے ملک کی پیداواری صلاحیت بہتر ہوسکتی ہے، جس سے صنعتی سرگرمیوں اور معاشی ترقی کو سہارا ملنے کا امکان ہے۔ 

وزارت خزانہ کے مطابق ٹیکس نظام میں بہتری، توانائی کی بچت اور سرکاری اداروں میں اصلاحات پائیدار معاشی ترقی کے حصول میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ 

بیرونی شعبے کے حوالے سے رپورٹ میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر اور خدمات کی برآمدات میں اضافے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ 

رپورٹ کے مطابق ترسیلات زر بڑھنے سے ملکی آمدنی اور زرمبادلہ کے ذخائر کو فائدہ ہوگا، جبکہ نسبتاً مضبوط زرمبادلہ کے ذخائر پہلے ہی معاشی استحکام میں معاون ثابت ہورہے ہیں۔ 

وزارت خزانہ نے بتایا ہے کہ حکومت کی توجہ ٹیکس وصولیوں میں اضافے اور سرکاری اخراجات کو قابو میں رکھنے پر مرکوز ہے تاکہ مالی نظم و ضبط برقرار رکھا جاسکے۔ 

رپورٹ میں بجٹ سرپلس کو ملکی معیشت کے استحکام کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کمزور اور کم آمدنی والے طبقات کی معاونت کے اقدامات جاری رکھنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ 

وزارت خزانہ کے مطابق معاشی بحالی کی توقعات کے باوجود صنعتی شعبوں کی کارکردگی میں فرق برقرار ہے، جبکہ مستقبل میں مہنگائی کی صورتحال عالمی توانائی کی قیمتوں اور خوراک کی فراہمی سے مشروط رہے گی۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں