Business

کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائننس پر تاریخ کا بڑا سائبر حملہ، 6 ارب 30 کروڑ ڈالر کے اثاثے متاثر

کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائننس پر تاریخ کا بڑا سائبر حملہ، 6 ارب 30 کروڑ ڈالر کے اثاثے متاثر
۱ منٹ پہلے

دنیا کی بڑی کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائننس (Binance) نے تقریباً 6 ارب 30 کروڑ ڈالر مالیت کے ڈیجیٹل اثاثوں کو متاثر کرنے والے بڑے سائبر حملے کی تصدیق کردی ہے۔ بلاک چین ماہرین کے مطابق یہ کرپٹو کرنسی کی تاریخ میں اب تک کی سب سے بڑی چوری ہوسکتی ہے، جبکہ کمپنی نے صارفین کے تمام نقصانات خود پورے کرنے کا اعلان کیا ہے۔ 

بائننس کی جانب سے 30 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ سکیورٹی اپ ڈیٹ کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوا ہے کہ سائبر حملے کی شروعات کمپنی کے ایک ڈیواپس انجینئر کا لیپ ٹاپ ہیک ہونے سے ہوسکتی ہیں۔ 

کمپنی کے مطابق حملہ آور نے مبینہ طور پر ہیک شدہ لیپ ٹاپ کے ذریعے اندرونی سروس کنٹینر تک رسائی حاصل کی اور کرپٹو اثاثے غیر قانونی طور پر منتقل کرنے کے لیے غیر مجاز ودڈرال ٹرانزیکشنز انجام دیں۔ 

بائننس کا کہنا ہے کہ اب تک کی تحقیقات میں کرپٹو والٹس کی پرائیویٹ کیز لیک ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا، تاہم حملے کی مکمل تکنیکی تحقیقات جاری ہیں۔ 

بلاک چین انٹیلی جنس فرم ٹی آر ایم لیبز کے مطابق 29 اکتوبر کو ہونے والے سائبر حملے میں تقریباً 6 ارب 36 کروڑ ڈالر مالیت کے کرپٹو اثاثے بائننس کے والٹس سے 10 مختلف بلاک چین نیٹ ورکس پر منتقل کیے گئے۔ 

ادارے کے مطابق اثاثوں کی منتقلی کا بڑا حصہ تقریباً 20 منٹ کے اندر انجام دیا گیا، جسے کرپٹو کرنسی کی تاریخ کی سب سے بڑی چوری قرار دیا جارہا ہے۔ 

بائننس نے بتایا کہ اس نے مختلف بلاک چین پارٹنرز اور کرپٹو کرنسی جاری کرنے والی کمپنیوں کے تعاون سے تقریباً 3 ارب ڈالر مالیت کے متاثرہ اثاثے منجمد کردیے ہیں۔ 

کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ سائبر حملے سے ہونے والے تمام نقصانات اپنے سکیور ایسٹ فنڈ فار یوزرز، یعنی SAFU فنڈ، اور کمپنی کے اپنے مالی وسائل سے پورے کیے جائیں گے۔ 

بائننس نے صارفین کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کے فنڈز محفوظ رہیں گے اور نقصانات کا مالی بوجھ صارفین پر نہیں ڈالا جائے گا۔ 

حفاظتی اقدامات کے تحت کمپنی نے سکیورٹی چیکس مکمل ہونے تک عارضی طور پر ڈپازٹس اور ودڈرالز معطل کردیے ہیں۔ 

بائننس نے متاثرہ ایڈریس کی اجازت بھی منسوخ کردی ہے اور چوری شدہ اثاثوں کا سراغ لگانے اور حملہ آوروں کی شناخت کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور بلاک چین انٹیلی جنس کمپنیوں کے ساتھ کام شروع کردیا ہے۔ 

دوسری جانب بلاک چین انٹیلی جنس فرم ٹی آر ایم لیبز نے دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے میں شمالی کوریا سے منسلک ہیکنگ گروپ ٹریڈر ٹریٹر (TraderTraitor) کے ملوث ہونے کا قوی امکان ہے۔ 

ٹی آر ایم لیبز کے مطابق بلاک چین پر ہونے والی ٹرانزیکشنز، حملے کے طریقہ کار اور دیگر انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر اس گروپ کے ملوث ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ 

تاہم بائننس نے تاحال حملہ آوروں کی شناخت یا شمالی کوریا کے ملوث ہونے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ 

بائننس کی جانب سے سائبر حملے کی تصدیق سے قبل ہی کرپٹو کرنسی کی صنعت کے متعدد سکیورٹی ماہرین نے پلیٹ فارم سے غیر معمولی اور مشتبہ ٹرانزیکشنز کی نشاندہی شروع کردی تھی۔ 

اس بڑے سائبر حملے کی خبریں سامنے آنے کے بعد عالمی کرپٹو مارکیٹ میں بھی مندی دیکھی گئی اور بٹ کوائن، ایتھیریم سمیت کئی بڑی کرپٹو کرنسیوں کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ 

تاہم سٹیبل کوائنز کی قیمتوں میں عمومی طور پر نسبتاً محدود اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، کیونکہ ان کرپٹو اثاثوں کی قدر امریکی ڈالر جیسے مخصوص اثاثوں کے ساتھ منسلک رکھنے کے لیے بنائی جاتی ہے۔ 

بائننس کے مطابق واقعے کی مکمل تحقیقات اور تمام حقائق کی تصدیق کے بعد سائبر حملے کے طریقہ کار اور سکیورٹی خامیوں سے متعلق تفصیلی تکنیکی رپورٹ جاری کی جائے گی۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں