عالمی دہشت گردی میں افغانستان کا بڑھتا کردار بے نقاب — بھارت کے ساتھ گٹھ جوڑ پر سنگین سوالات

news-banner

دنیا - 29 نومبر 2025

حالیہ عالمی دہشت گردانہ واقعات نے افغانستان کے خطرناک کردار کو ایک بار پھر واضح کر دیا ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی، امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں چینی ملازمین پر ہونے والا ڈرون حملہ — یہ سب اسی سلسلے کی کڑیاں بتائی جا رہی ہیں۔

 

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق افغان طالبان رجیم بین الاقوامی دہشت گرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہی ہے، جو پورے خطے کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

 

 عالمی برادری افغانستان میں دہشت گردوں کی موجودگی کی تصدیق کر چکی ہے، مگر اس کے باوجود بھارت افغان قیادت کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے میں مصروف ہے۔

 

ترجمان دفترِ خارجہ نے حالیہ واقعات — امریکا اور تاجکستان میں حملے اور افغانستان سے پاکستان پر بلااشتعال جارحیت — کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کئی دہائیوں سے دہشت گردی کا شکار ہے، اور عالمی برادری کو افغان شہریوں کی منظم منتقلی میں کردار ادا کرنا چاہیے۔

 

اکتوبر 2025ء میں افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کے دورۂ بھارت کے دوران اہم معاہدے ہوئے، اور اسی وقت افغانستان نے پاکستان کے خلاف اشتعال انگیزی بھی کی۔

 

 ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق بھارت اور افغانستان نے ایک دوسرے کے ہاں اپنے سفارتخانوں میں تجارتی نمائندے تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے جنوبی ایشیا کی سیاسی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔