برطانیہ: لندن میں چین کے مجوزہ میگا ایمبیسی منصوبے کو ’’سیکیورٹی فائدہ‘‘ قرار دے دیا گیا، جاسوسی خدشات برقرار

news-banner

دنیا - 03 دسمبر 2025

برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ لندن میں چین کی مجوزہ میگا ایمبیسی تعمیر کرنے سے ’’سیکیورٹی کے فوائد‘‘ حاصل ہو سکتے ہیں، حالانکہ اس منصوبے کے مخالفین اسے جاسوسی کے ایک بڑے مرکز کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

 

نمبر 10 کے مطابق، لندن میں موجود چین کے سات مختلف سفارتی دفاتر کو ایک ہی مقام پر منتقل کرنا سیکیورٹی کے لحاظ سے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔

 

 اس منصوبے کی پلاننگ منظوری کا فیصلہ تیسری بار مؤخر کر دیا گیا ہے، اور اب توقع ہے کہ 20 جنوری کو حتمی منظوری دی جائے گی۔

 

حکومت کے مخالف گروہ ’’انٹر پارلیمنٹری الائنس آن چائنا‘‘ کو لکھے گئے خط میں ہوم سیکرٹری اور فارن سیکرٹری نے بتایا کہ نئے ایمبیسی منصوبے سے متعلق قومی سلامتی کے خدشات دور کر دیے گئے ہیں، کیونکہ چین نے وعدہ کیا ہے کہ منظوری کی صورت میں وہ لندن میں موجود تمام منظور شدہ سفارتکاروں کو ایک ہی عمارت میں منتقل کر دے گا۔

 

وزیر اعظم کے ترجمان نے کہا کہ سفارتی دفاتر کو ایک جگہ لانا ’’واضح طور پر سیکیورٹی فوائد‘‘ رکھتا ہے۔ ان کے مطابق، ہوم آفس اور فارن آفس نے منصوبے کے سیکیورٹی پہلوؤں کا جائزہ لیا ہے اور کہا ہے کہ تمام امور حل ہونے تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہونا چاہیے۔

 

اگر یہ منصوبہ منظور ہو گیا تو رائل منٹ کورٹ میں تعمیر ہونے والی یہ عمارت یورپ کی سب سے بڑی چینی ایمبیسی ہوگی، جہاں تقریباً 200 ملازمین کے لیے دفاتر اور زیرِ زمین وسیع حصے موجود ہوں گے۔ 

 

اس مقام کے قریب موجود فائبر آپٹک کیبلز، جن میں حساس مالیاتی ڈیٹا گزرتا ہے، مزید سیکیورٹی خدشات کا باعث بن رہے ہیں۔

 

مزید شبہات اس وقت پیدا ہوئے جب ٹاور ہیملٹس کونسل کو جمع کرائے گئے چینی منصوبے کے کچھ حصے ’’سیکیورٹی وجوہات‘‘ کی بنا پر ریکٹ کیے گئے تھے۔ گرمیوں میں برطانیہ نے چین سے ان کمروں کی وضاحت طلب کی تھی، اور اب حکام ان وضاحتوں سے مطمئن دکھائی دیتے ہیں۔

 

چینی سفارتخانہ پہلے ہی یہ مؤقف اختیار کر چکا ہے کہ نیا کمپلیکس چین اور برطانیہ کے درمیان ’’باہمی فائدہ مند تعاون‘‘ کو بڑھائے گا، اور تمام اعتراضات غیر ضروری ہیں۔

 

وزیر اعظم سر کیئر سٹارمر نے اپنی حالیہ تقریر میں کہا کہ چین بلاشبہ ٹیکنالوجی، تجارت اور عالمی معاملات میں ایک اہم قوت ہے، لیکن ساتھ ہی وہ برطانیہ کے لیے قومی سلامتی کے خدشات بھی رکھتا ہے۔ 

 

MI5 نے بھی چینی ریاستی عناصر کو مسلسل سیکیورٹی خطرہ قرار دیا ہے، جبکہ حال ہی میں لنکڈ اِن پر اراکینِ پارلیمنٹ کو نشانہ بنانے والے چینی پروفائلز سے متعلق انتباہ جاری کیا گیا تھا۔

 

دوسری جانب، شیڈو ہاؤسنگ سیکرٹری جیمز کلیورلی نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ سیکیورٹی خدشات کو دباکر ’’منصوبے کو بغیر جانچ پڑتال‘‘ آگے بڑھا رہی ہے۔

 

 انہوں نے مطالبہ کیا کہ سیکیورٹی اداروں کو نجی طور پر شواہد پیش کرنے کی اجازت دی جائے اور ایمبیسی کی مکمل، غیر ریکٹڈ نقول فراہم کی جائیں۔