تازہ ترین - 08 دسمبر 2025
برطانیہ میں نوجوان اے آئی کے خوف سے ہنر مندانہ پیشوں کی جانب مائل
تازہ ترین - 03 دسمبر 2025
لندن: جیسا کہ مصنوعی ذہانت (AI) دنیا بھر کی لیبر مارکیٹ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے اور متعدد روایتی ملازمتیں ختم کر رہی ہے، برطانیہ کے نوجوان مستقبل کے حوالے سے خدشات محسوس کر رہے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق برطانوی نوجوان اب روایتی سفید پوش ملازمتوں کے بجائے ہنرمندانہ اور عملی پیشوں کی جانب رجوع کر رہے ہیں، تاکہ AI کی وجہ سے نوکریوں کے خطرات سے محفوظ رہ سکیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دفتری اور تکنیکی شعبوں میں AI کے بڑھتے ہوئے استعمال نے نوجوانوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔
ایک تازہ سروے میں ظاہر ہوا کہ ہر چھ میں سے ایک ادارہ آئندہ سال AI کے اثرات کے باعث اپنے عملے میں کمی کر سکتا ہے۔
18 سالہ ماریانا یاروشینکو بھی انہی نوجوانوں میں شامل ہیں، جو AI کے اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے ہنر سیکھ رہی ہیں۔ یوکرین سے تعلق رکھنے والی یہ طالبہ لندن کے سٹی آف ویسٹ منسٹر کالج میں پلمبنگ کی تربیت حاصل کر رہی ہیں اور کہتی ہیں کہ یہ وہ کام ہے جسے AI کبھی نہیں کر سکتا۔
کالج کے مطابق پچھلے تین سالوں میں انجینئرنگ، تعمیرات اور متعلقہ کورسز میں داخلوں کی شرح 9.6 فیصد بڑھ گئی ہے۔
کالج کے سی ای او اسٹیفن ڈیوس کے مطابق اس رجحان کے پیچھے دو بڑی وجوہات ہیں: AI کا بڑھتا ہوا خوف اور یونیورسٹی کی مہنگی فیسوں سے بچنے کی خواہش، جس کی وجہ سے نوجوان عملی تربیت کے ذریعے جلد روزگار حاصل کرنا ترجیح دے رہے ہیں۔
کنگز کالج لندن کی تحقیق کے مطابق AI سے متاثرہ ملازمتوں میں جونیئر سطح کے عہدے سب سے زیادہ خطرے میں ہیں، اور برطانیہ کی سب سے بڑی ٹریڈ یونین کے سروے میں 25 سے 35 سال کے افراد نے سب سے زیادہ خدشات کا اظہار کیا کہ AI مستقبل میں ان کی نوکریوں کی ضرورت ختم کر سکتی ہے۔
یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں ہنر مندانہ اور عملی پیشے دوبارہ اہمیت اختیار کر رہے ہیں، اور نوجوان AI کے دور میں محفوظ، عملی اور مستقل روزگار کے نئے راستے تلاش کر رہے ہیں۔
دیکھیں

