تازہ ترین - 12 مارچ 2026
سینیٹ خزانہ کمیٹی میں کرپشن رپورٹ پر شدید تشویش، ایف بی آر کیس بھی زیرِ بحث لایا جائے گا
کاروبار - 03 دسمبر 2025
سینیٹ خزانہ کمیٹی نے پاکستان میں کرپشن اور گورننس سے متعلق حالیہ رپورٹ پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور متعلقہ اداروں پر سخت سوالات کی بھرمار کی۔
چیئرمین کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت اجلاس میں اراکین نے مختلف شعبوں میں سامنے آنے والے بڑے کرپشن سکینڈلز پر برہمی کا اظہار کیا۔
سینیٹر دلاور خان نے کہا کہ آئی ایم ایف نے ملک میں 5300 ارب روپے کی کرپشن کی نشاندہی کی ہے اور سوال کیا کہ کیا رپورٹ میں شامل اداروں کے خلاف کوئی کارروائی ہوگی؟ انہوں نے لاہور میں ایف بی آر کے ایک افسر کے مبینہ سنگین واقعے کا بھی ذکر کیا، جس نے ریفنڈز میں کرپشن کے لیے حصہ مانگا اور نہ ملنے پر فائرنگ کی۔
چیئرمین کمیٹی اور دیگر اراکین نے اس انکشاف پر حیرت کا اظہار کیا اور فیصلہ کیا کہ ایف بی آر کے مذکورہ کیس کو آئندہ اجلاس میں تفصیل سے زیر بحث لایا جائے گا۔
وزارت خزانہ نے مؤقف اختیار کیا کہ رپورٹ کے زیادہ تر نکات پر حکومت پہلے ہی کام کر چکی ہے۔ حکام کے مطابق رپورٹ آئی ایم ایف کے تعاون سے تیار ہوئی اور گورننس کے لیے ایکشن پلان پر عملدرآمد 6 سے 10 ماہ میں ضروری ہے، زیادہ سے زیادہ مدت ڈیڑھ سال مقرر کی گئی ہے۔
اجلاس میں اراکین، خصوصاً سینیٹر عبدالقادر نے ایس آئی ایف سی کی کارکردگی، معاہدوں کی کمی اور ملکی معاشی صورتحال پر سخت تنقید کی۔
سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے حکومت سے پوچھا کہ کیا وہ رپورٹ میں درج بے ضابطگیوں اور ادارہ جاتی خرابیاں تسلیم کرتی ہے، کیونکہ الزامات سنگین نوعیت کے ہیں۔
وزارت خزانہ نے وضاحت کی کہ ڈائیگناسٹک رپورٹ مسائل کی نشاندہی کرتی ہے اور حکومت پہلے ہی متعدد شعبوں میں اصلاحات پر کام کر رہی ہے، جبکہ آئی ایم ایف کی سفارشات پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔
دیکھیں

