استنبول میں فلسطین کے حق میں تاریخ ساز مظاہرہ، نئے سال کی پہلی صبح لاکھوں افراد سڑکوں پر

news-banner

دنیا - 01 جنوری 2026

نئے سال کی پہلی صبح استنبول نے ایک بار پھر دنیا کو یہ پیغام دیا کہ فلسطین ترک عوام کے اجتماعی ضمیر کا حصہ ہے۔

 

 شدید سردی کے باوجود 5 لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد غزہ میں اسرائیلی حملوں اور انسانی بحران کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے، جس نے استنبول کو حالیہ برسوں کے سب سے بڑے فلسطین حامی مظاہرے کا مرکز بنا دیا۔

 

یہ احتجاج ’’ہم دبیں گے نہیں، ہم خاموش نہیں رہیں گے، ہم فلسطین کو نہیں بھولیں گے‘‘ کے عنوان سے منعقد کیا گیا، جس میں 400 سے زائد سول سوسائٹی تنظیموں، ٹریڈ یونینز، سماجی پلیٹ فارمز اور اسپورٹس کلبوں نے شرکت کی۔ 

 

مظاہرے کی قیادت ترکیہ گینچلیک وقف (TÜGVA) نے کی، جبکہ ملی ارادہ پلیٹ فارم اور انسانیت اتحاد اس کے سرپرست تھے۔

 

مظاہرے کا آغاز استنبول کی تاریخی مساجد میں نمازِ فجر سے ہوا۔ آیا صوفیہ، سلطان احمد، سلیمانیہ، فاتح، امین انونو، ینی جامع اور تقسیم سمیت مختلف مقامات سے نکلنے والے جلوس آخرکار گلاتا پل پر جمع ہوئے، جہاں شہر ایک انسانی سمندر کا منظر پیش کرنے لگا۔

 

شرکاء کے ہاتھوں میں ترکیہ اور فلسطین کے پرچم تھے، جبکہ سمندر میں کشتیوں پر موجود مظاہرین نے مشعلیں روشن کر کے احتجاج کو علامتی وسعت دی۔ مظاہرے میں ترکیہ کی سیاسی، دینی اور سماجی قیادت نے بھی عوام کے ساتھ شرکت کی۔

 

مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے علم یایما وقف کے چیئرمین اور TÜGVA کے اعلیٰ مشاورتی بورڈ کے رکن بلال اردوان نے کہا کہ غزہ میں جاری صورتحال صرف انسانی المیہ نہیں بلکہ عالمی نظام کے اخلاقی دیوالیہ پن کا ثبوت ہے۔

 

 انہوں نے کہا کہ یہ جنگ نہیں بلکہ نہتے عوام کے خلاف منظم نسل کشی ہے، جس میں خواتین، بچے اور بزرگ نشانہ بن رہے ہیں۔

 

بلال اردوان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت نہ صرف جرم کرنے والے بلکہ اسے روکنے میں ناکام رہنے والے بھی ذمہ دار ہیں۔

 

 انہوں نے کہا کہ غزہ کی تباہی کی قیمت اسرائیل کو جنگی تاوان کی صورت میں ادا کرنی ہوگی اور فلسطین کی آزادی تک یہ جدوجہد جاری رہے گی۔