پروفیسر محمد یونس: بیگم خالدہ ضیا کی آخری رسومات میں سارک ممالک کی شرکت سے تنظیم کی موجودہ اہمیت ظاہر ہوئی

news-banner

دنیا - 01 جنوری 2026

بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے کہا ہے کہ سارک کی روح آج بھی زندہ اور متحرک ہے، جس کا مظاہرہ سابق وزیراعظم اور بی این پی کی چیئرپرسن بیگم خالدہ ضیا کی آخری رسومات میں جنوبی ایشیائی ممالک کی بھرپور شرکت سے ہوا۔

 

ڈھاکہ میں گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر یونس نے کہا کہ وہ سارک کے رکن ممالک کی جانب سے بنگلہ دیش کی تین بار منتخب ہونے والی وزیراعظم کے ساتھ اظہار یکجہتی پر دل سے متاثر ہیں۔

 

 انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ یہ احترام ایک ایسی رہنما کے لیے تھا جس نے ملکی سیاست اور علاقائی تعاون میں نمایاں کردار ادا کیا۔

 

بیگم خالدہ ضیا کی آخری رسومات میں پاکستان کے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر، نیپال کے وزیر خارجہ بالا نندا شرما، سری لنکا کے وزیر خارجہ وجیتھا ہیراتھ اور مالدیپ کے وزیر علی حیدر احمد سمیت متعدد اعلیٰ سطحی وفود شریک ہوئے۔

 

رسومات کے بعد مہمان وفود نے پروفیسر محمد یونس سے ملاقاتیں کیں، جہاں انہوں نے بیگم خالدہ ضیا کی سیاسی خدمات اور جمہوری جدوجہد و علاقائی تعاون میں ان کے کردار کو یاد کیا۔ پروفیسر یونس نے عوام کی بڑی تعداد میں شرکت کو سابق وزیراعظم سے عوامی محبت کا ثبوت قرار دیا۔

 

انہوں نے بار بار سارک کو فعال بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آخری رسومات میں دکھائی گئی یکجہتی اس تنظیم کی موجودہ اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ فورم ایک بار پھر خطے کے تقریباً 2 ارب عوام کے لیے مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔

 

ملاقاتوں کے دوران آئندہ قومی انتخابات اور بیرون ملک مقیم بنگلہ دیشیوں کے لیے متعارف کرائے گئے پوسٹل ووٹنگ سسٹم پر بھی تبادلہ خیال ہوا، جس میں تقریباً 7 لاکھ اوورسیز بنگلہ دیشی رجسٹر ہو چکے ہیں۔

 

 سری لنکا اور نیپال کے وزرائے خارجہ نے اس نظام میں دلچسپی ظاہر کی اور اسے اپنے ممالک میں بہتری کے لیے دیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔