ایران میں مہنگائی اور معاشی بحران کے خلاف ملک گیر احتجاج جاری، ہلاکتیں 45 تک پہنچ گئیں

news-banner

دنیا - 09 جنوری 2026

ایران میں معاشی بحران، مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں شدید کمی کے خلاف ملک گیر احتجاج کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ 

 

28 دسمبر سے شروع ہونے والے مظاہروں کے دوران اب تک سکیورٹی اہلکاروں سمیت 45 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

 

احتجاجی مظاہرے ملک کے 27 صوبوں تک پھیل چکے ہیں جہاں دکانداروں اور عام شہریوں کی جانب سے روزانہ مختلف شہروں میں احتجاج کیا جا رہا ہے۔ 

 

تازہ مظاہروں کے دوران کئی اہم شہروں میں مظاہرین نے ٹائر جلا کر سڑکیں بند کر دیں، جس سے معمولاتِ زندگی متاثر ہوئے۔

 

ایرانی میڈیا کے مطابق بعض مقامات پر ہتھیاروں سے لیس شرپسند عناصر نے پولیس پر پتھراؤ اور فائرنگ کی، جس کے بعد حالات پر قابو پانے کے لیے ملک بھر میں پولیس اور سکیورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔

 

دوسری جانب حکام نے احتجاج کے پیش نظر پورے ملک میں انٹرنیٹ سروس معطل کر دی ہے۔ 

 

انٹرنیٹ مانیٹرنگ ادارے نیٹ بلاکس نے بندش کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اگرچہ بندش کی سرکاری وجہ سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی حکام ماضی میں بھی مظاہروں کے دوران انٹرنیٹ معطل کرتے رہے ہیں۔

 

واضح رہے کہ ایران میں گزشتہ 12 روز سے عوام مہنگائی اور معاشی بدحالی کے خلاف سراپا احتجاج ہیں، جن کے دوران درجنوں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

 

 اسی تناظر میں امریکی صدر نے ایک انٹرویو میں خبردار کیا ہے کہ اگر مظاہرین کو نشانہ بنایا گیا تو ایران کو سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔