کراچی: 17 سالہ شیر علی نے موت کے بعد آنکھیں عطیہ کر کے دو زندگیاں روشن کر دیں

news-banner

تازہ ترین - 09 جنوری 2026

کراچی: انسانیت کی خدمت اور قربانی کی ایک متاثر کن مثال کراچی میں رقم ہوئی ہے، جہاں 17 سالہ شیر علی تہیم نے اپنی وفات کے بعد اپنی آنکھوں کے قرنیے (Corneas) عطیہ کر کے دو افراد کو دوبارہ بینائی دی۔

 

تفصیلات کے مطابق شیر علی دماغ کی شریان پھٹنے کے باعث ایس آئی یو ٹی لایا گیا، اور دو روز کی زندگی و موت کی کشمکش کے بعد ڈاکٹروں نے اسے برین ڈیڈ قرار دیا۔

 

 شدید صدمے کے باوجود اس کے والدین نے اپنے بیٹے کے عطیہ اعضاء سے دوسروں کی زندگی سنوارنے کا فیصلہ کیا۔

 

شیر علی کا ایس آئی یو ٹی سے گہرا تعلق رہا ہے۔ اس کی والدہ نے 8 سال کی عمر میں اپنا گردہ دے کر اسے نئی زندگی دی تھی، جبکہ والد بھی پہلے اپنے بھتیجے کو گردہ عطیہ کر چکے تھے۔

 

مرحوم شیر علی کا گردہ دس سال تک کام کرتا رہا، مگر حال ہی میں وہ ڈائلیسس پر تھا اور دوسرے ٹرانسپلانٹ کا انتظار کر رہا تھا۔

 

 ورثا کی رضامندی کے بعد 7 جنوری کو ایس آئی یو ٹی کے ماہرین نے اس کی آنکھیں دو افراد کو منتقل کر کے ان کی بینائی بحال کی۔

 

ایس آئی یو ٹی کے سربراہ ڈاکٹر پروفیسر ادیب رضوی نے کہا: ’’شدید غم کے عالم میں دوسروں کے لیے سوچنا انسانیت کا بلند ترین درجہ ہے۔

 

‘‘ انہوں نے معاشرے کے دیگر افراد سے اپیل کی کہ وہ بھی موت کے بعد اعضاء کا عطیہ کر کے زندگی بچانے میں حصہ لیں۔