ایران کے گرد دباؤ بڑھانے کیلئے امریکا نے کہاں کہاں فوجی اثاثے تعینات کر دیے؟

news-banner

دنیا - 30 جنوری 2026

امریکا نے حالیہ دنوں میں ایران کے قریب اپنی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ کیا ہے، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اب تک ایران کے خلاف کسی فوجی کارروائی کی منظوری نہیں دی۔

 

امریکی حکام کے مطابق یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کی جانب ایک بڑا بحری بیڑا روانہ کرنے کا اعلان کیا۔

 

اس بحری بیڑے میں طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن شامل ہے، جس کے ساتھ ٹوماہاک میزائلوں سے لیس تین جنگی جہاز بھی موجود ہیں۔

 

امریکی بحریہ کے مطابق یہ بحری جہاز مغربی بحرِ ہند سے امریکی سینٹرل کمانڈ کے دائرہ اختیار میں داخل ہو کر اب بحیرہ عرب میں تعینات ہیں۔ 

 

پروازوں کی نگرانی کے اعداد و شمار سے بھی تصدیق ہوتی ہے کہ اس طیارہ بردار جہاز سے اڑنے والے طیاروں نے بحیرہ عرب اور عمان کے درمیان متعدد پروازیں کیں۔

 

امریکی میڈیا کے مطابق یو ایس ایس ابراہم لنکن کی موجودہ تعیناتی کے مقام سے اس پر موجود جدید ایف‑35 اور ایف/اے‑18 لڑاکا طیارے ایران کے اندر کئی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اگر انہیں کارروائی کا حکم دیا جائے۔

 

اس کے علاوہ امریکا نے کم از کم ایک درجن ایف‑15ای لڑاکا طیارے بھی خطے میں تعینات کیے ہیں تاکہ زمینی اڈوں سے حملے کی صلاحیت بڑھائی جا سکے۔ 

 

سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ طیارے اردن کے ایک فضائی اڈے پر موجود ہیں، جہاں جون 2025 میں بھی امریکی آپریشن کے دوران تعیناتی رہی تھی۔

 

پروازوں کے اعداد و شمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ امریکا مزید جنگی طیارے اور ایندھن بھرنے والے طیارے خطے کے قریب منتقل کر رہا ہے۔ 

 

اس کے ساتھ ساتھ پینٹاگون نے پیٹریاٹ اور تھاد فضائی دفاعی نظام بھی روانہ کیے ہیں تاکہ امریکی فوجیوں کو ممکنہ ایرانی میزائل حملوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔

 

فی الوقت خطے میں تقریباً 30 سے 40 ہزار امریکی فوجی موجود ہیں۔ 

 

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے تاحال کسی فوجی کارروائی کی منظوری نہیں دی اور سفارتی حل پر غور جاری ہے، جبکہ امریکا میں موجود طویل فاصلے تک مار کرنے والے بمبار طیاروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔