ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات پر مشروط آمادگی ظاہر کردی

news-banner

دنیا - 31 جنوری 2026

استنبول: ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران تمام مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کی میز پر واپس آنے کو تیار ہے، لیکن یہ مذاکرات انصاف اور قانون کی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔

 

استنبول میں اپنے ترک ہم منصب ہاکان فیدان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں عراقچی نے واضح کیا کہ ایران کو مذاکرات پر کوئی اعتراض نہیں، مگر دھمکیوں کے سائے میں یہ مذاکرات نہیں ہو سکتے۔

 

انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے حکام کے درمیان کسی ملاقات کا شیڈول طے نہیں ہوا، تاہم ایران منصفانہ اور برابر سطح کے مذاکرات کے لیے تیار ہے اور اس سلسلے میں ترکی کے ساتھ رابطے میں ہے۔

 

عراقچی نے زور دیا کہ ایران مذاکرات اور جنگ دونوں کے لیے تیار ہے، اور پچھلی 12 روزہ جنگ کے مقابلے میں اب زیادہ محتاط ہے۔

 

 امریکا کی براہِ راست مداخلت کی وجہ سے صورتحال مختلف ہے اور ممکن ہے یہ تنازعہ دوطرفہ سے آگے بڑھ جائے۔

 

انہوں نے کہا کہ کشیدگی کا واحد حل سفارت کاری ہے اور ایران بڑھتے ہوئے دباؤ کے باوجود سفارتی راستہ ترک نہیں کرے گا۔

 

دوسری جانب ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے کہا کہ یورپی ممالک کی افواج کو دہشت گرد تنظیمیں سمجھا جا سکتا ہے۔

 

لاریجانی نے بتایا کہ ایرانی پارلیمنٹ نے اپریل 2019 میں قانون منظور کیا تھا، جس کے تحت پاسدارانِ انقلاب کو بلیک لسٹ کرنے والوں کو دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے۔ 

 

ایرانی میڈیا کے مطابق اس قانون کی روشنی میں اگر یورپی ممالک پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد قرار دیں، تو ایران بھی یورپی افواج کو دہشت گرد سمجھنے کا حق رکھتا ہے۔