بنگلادیش کے 13ویں پارلیمانی انتخابات: پولنگ مکمل، ووٹوں کی گنتی جاری

news-banner

دنیا - 12 فروری 2026

بنگلادیش کے 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور ملک بھر میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔

 

یہ انتخابات طلبہ کی قیادت میں چلنے والی اس تحریک کے 18 ماہ بعد منعقد ہو رہے ہیں جس کے نتیجے میں شیخ حسینہ کے تقریباً دو دہائیوں پر محیط اقتدار کا خاتمہ ہوا تھا۔ 

 

اس پس منظر میں یہ انتخابی مرحلہ غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

 

پارلیمنٹ میں زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کے لیے بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور بنگلادیش جماعتِ اسلامی کی قیادت میں قائم اتحادوں کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے۔

 

ماضی میں غیر سرکاری نتائج عموماً اگلی صبح آنا شروع ہو جاتے تھے، تاہم الیکشن کمیشن حکام کے مطابق اس بار گنتی کا عمل زیادہ وقت لے سکتا ہے۔ 

 

اس کی وجہ سفید پارلیمانی بیلٹ پیپر کے ساتھ جولائی کے قومی چارٹر سے متعلق ریفرنڈم کے لیے گلابی بیلٹ پیپر کی شمولیت اور امیدواروں و جماعتوں کی زیادہ تعداد بتائی گئی ہے۔

 

الیکشن کمیشن کے مطابق ملک کے 64 اضلاع میں قائم 42 ہزار 761 پولنگ اسٹیشنز پر 300 میں سے 299 حلقوں میں ووٹنگ ہوئی۔ 

 

خواتین کے لیے 50 مخصوص نشستیں مختص ہیں جو تناسبی نمائندگی کی بنیاد پر تقسیم کی جاتی ہیں۔

 

نومبر 2025 میں جاری کردہ حتمی ووٹر فہرست کے مطابق ملک میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 12 کروڑ 77 لاکھ 11 ہزار 793 ہے، جن میں 6 کروڑ 48 لاکھ 25 ہزار 361 مرد اور 6 کروڑ 28 لاکھ 85 ہزار 200 خواتین شامل ہیں۔

 

پہلی بار ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے جس سے تقریباً ڈیڑھ کروڑ بیرونِ ملک مقیم شہری مستفید ہوں گے۔

 

بنگلادیش کی پارلیمنٹ، جسے جاتیا سنگسد کہا جاتا ہے، ایک ایوان پر مشتمل ہے جس کے کل 350 ارکان ہوتے ہیں  300 براہِ راست منتخب اور 50 خواتین کے لیے مخصوص نشستیں۔