تیجس طیاروں کی کارکردگی پر سوالات، بھارتی دفاعی منصوبوں پر تنقید میں اضافہ

news-banner

دنیا - 24 فروری 2026

بھارت کے مقامی طور پر تیار کردہ لڑاکا طیارے تیجس کی کارکردگی ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گئی ہے، جہاں حالیہ تکنیکی واقعے کے بعد دفاعی منصوبوں پر تنقید میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

 

بھارتی سرکاری دفاعی کمپنی ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ نے تیجس طیارے کے حادثے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ طیارے کو فضاء میں کوئی حادثہ پیش نہیں آیا بلکہ زمین پر معمولی تکنیکی خرابی سامنے آئی تھی۔

 

تاہم اس وضاحت سے قبل بھارتی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ فروری کے آغاز میں ایک فرنٹ لائن ایئر بیس پر تیجس طیارہ رن وے سے پھسلنے کے باعث شدید متاثر ہوا اور پائلٹ کو ہنگامی طور پر ایجیکٹ کرنا پڑا۔

 

دفاعی ماہرین کے مطابق اگر واقعہ معمولی نوعیت کا تھا تو پائلٹ کے ایجیکشن اور طیارے کو پہنچنے والے نقصان کی اطلاعات تشویش کا باعث ہیں۔

 

 ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات ’’میک اِن انڈیا‘‘ دفاعی پروگرام کی عملی کارکردگی پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔

 

رپورٹس کے مطابق تیجس پروگرام کو گزشتہ برسوں میں تکنیکی مسائل، تاخیر اور حادثات کا سامنا رہا، جن میں 2024 میں جیسلمیر کے قریب حادثہ اور 2025 کے دبئی ایئر شو کے دوران پیش آنے والا واقعہ بھی شامل ہے۔

 

بھارتی حکومت نے فروری 2021 میں 83 تیجس طیاروں کی خریداری کیلئے تقریباً 48 ہزار کروڑ روپے جبکہ بعد ازاں مزید 97 طیاروں کیلئے 62 ہزار کروڑ روپے سے زائد مالیت کے معاہدے کیے تھے۔

 

ماہرین کے مطابق امریکی جی ای ایف 404 انجن کی فراہمی میں تاخیر کے باعث بھارتی فضائیہ کی جدید کاری کا عمل بھی متاثر ہوا ہے، جس سے دفاعی خود انحصاری کے دعوؤں پر مزید بحث شروع ہوگئی ہے۔