الجزیرہ کی رپورٹ: مودی حکومت مسلمانوں کے خلاف اسرائیلی طرز کی پالیسی اپنا رہی ہے

news-banner

دنیا - 26 فروری 2026

قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی ایک رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت مسلمانوں کے خلاف اسرائیلی طرز کی حکمتِ عملی اپنا رہی ہے، جبکہ مقبوضہ کشمیر میں حالات غزہ سے مماثلت اختیار کر چکے ہیں اور روزمرہ زندگی شدید متاثر ہے۔

 

رپورٹ کے مطابق بھارت اور اسرائیل کے تعلقات ایک مشترکہ نظریاتی وژن پر قائم ہیں، جس میں مسلمانوں کو سکیورٹی اور جغرافیائی خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق آر ایس ایس قیادت صیہونی طرزِ حکمرانی سے متاثر ہے اور دونوں حکومتیں نسلی تفاخر کے رجحان کا شکار ہیں۔

 

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے دوران فوجی معاونت فراہم کی اور اسرائیلی نگرانی و جاسوسی کے جدید آلات کو اپنے سکیورٹی نظام میں شامل کیا۔ مزید یہ کہ نومبر 2019 میں امریکہ میں تعینات بھارتی قونصل جنرل نے مقبوضہ کشمیر میں غزہ طرز کا اسرائیلی ماڈل اپنانے کا اعلان کیا تھا۔

 

الجزیرہ کے مطابق 2019 کے بعد سے مقبوضہ کشمیر مسلسل فوجی محاصرے میں ہے، جس کے باعث شہری آزادیوں پر سخت پابندیاں عائد ہوئیں اور معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے۔ مودی حکومت نے کشمیر کی انتظامی اور سکیورٹی پالیسی میں اسرائیلی ماڈل کو شامل کیا ہے۔

 

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں اقلیتوں کے خلاف “بلڈوزر جسٹس” کی پالیسی اختیار کی گئی، جس کے تحت سینکڑوں مسلمانوں کے گھروں، دکانوں اور عبادت گاہوں کو بغیر نوٹس مسمار کیا گیا۔ ناقدین نے ان اقدامات کو ماورائے عدالت سزا قرار دیا ہے۔

 

الجزیرہ کے مطابق کشمیر میں اظہارِ رائے، پرائیویسی اور مواصلاتی آزادیوں کو محدود کر دیا گیا ہے، جہاں غزہ کی طرز پر مستقل ہنگامی صورتحال، چیک پوسٹس، چھاپے اور رابطوں کی بندش نافذ ہے۔

 

 رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اختلافی آوازوں کی نگرانی کے لیے جدید جاسوسی آلات کے استعمال پر بھی سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں، جبکہ ہندوتوا نظریہ معاشرتی تقسیم کو مزید گہرا کر رہا ہے۔

 

قطری نشریاتی ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین اور منظم خلاف ورزیوں پر عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔