پینٹاگون کا اعتراف، ایران کی جانب سے پہلے حملے کی کوئی منصوبہ بندی ثابت نہ ہو سکی

news-banner

دنیا - 02 مارچ 2026

واشنگٹن: پینٹاگون نے اعتراف کیا ہے کہ ایسی کوئی خفیہ معلومات موجود نہیں تھیں جن سے یہ ثابت ہو کہ ایران امریکی افواج پر پیشگی حملہ کرنے کی تیاری کر رہا تھا۔

 

یہ اعتراف اس وقت سامنے آیا جب امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف گزشتہ کئی دہائیوں کی بڑی فوجی کارروائی کرتے ہوئے ایک ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔

 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی کانگریس کو دی گئی بریفنگ میں انکشاف ہوا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے حملوں کے جواز کے طور پر پیش کیا گیا مؤقف کمزور پڑ گیا۔

 

 اس سے قبل امریکی حکام کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی فوجیوں پر ممکنہ ایرانی پیشگی حملے کے خدشے کے باعث کارروائی کی منظوری دی تھی۔

 

پینٹاگون حکام نے سینیٹ اور ایوان نمائندگان کی قومی سلامتی کمیٹیوں کو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے واضح کیا کہ ایران کی جانب سے فوری حملے کے کوئی شواہد موجود نہیں تھے۔

 

حکام نے کہا کہ اگرچہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں اس کے اتحادی گروہ امریکی مفادات کیلئے خطرہ تصور کیے جاتے ہیں، تاہم ایران کی جانب سے پہلے حملے کا کوئی مصدقہ ثبوت نہیں ملا۔

 

ڈیموکریٹ اراکین نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت نے سفارتی مذاکرات ترک کر کے خطے کو غیر ضروری کشیدگی کی طرف دھکیل دیا۔