پروسٹیٹ کینسر کے علاج کیلئے نئی دوا کی کامیاب ابتدائی آزمائش

news-banner

تازہ ترین - 03 مارچ 2026

جدید مرحلے کے پروسٹیٹ کینسر کے لیے تیار کی گئی نئی دوا VIR-5500 نے ابتدائی آزمائشی نتائج میں 'غیر معمولی' کارکردگی دکھائی ہے۔

 

یہ علاج ایک قسم کی امیونو تھراپی ہے جو جسم کے اپنے مدافعتی نظام کو کینسر کے خلاف متحرک کرتی ہے۔ 

 

اس نے نہ صرف موجودہ رسولیوں کو سکڑنے میں مدد دی بلکہ ان کی مزید نمو کو روکنے کی صلاحیت بھی ظاہر کی۔

 

ماہرین نے اس کا خیرمقدم اس لیے کیا کہ روایتی امیونو تھراپیز پروسٹیٹ کینسر میں زیادہ کامیاب نہیں ہو سکیں۔ 

 

اکثر رسولیوں کو نمایاں طور پر کم کرنے میں ناکام رہیں اور مریضوں میں شدید ضمنی اثرات پیدا ہوئے۔

 

نئی دوا VIR-5500 ایک منفرد ’خفیہ نظام‘ استعمال کرتی ہے، جو صرف رسولی تک پہنچنے کے بعد فعال ہوتی ہے، جس سے مضر اثرات کے خطرے میں نمایاں کمی آتی ہے۔

 

امریکن سوسائٹی آف کلینیکل آنکولوجی (ASCO) کے جینیٹویورینری کینسرز سمپوزیم میں محققین نے بتایا کہ اس دوا کو 58 مردوں پر آزمایا گیا جن میں اگلے مرحلے کے پروسٹیٹ کینسر پر دیگر علاجوں کا اثر ختم ہو چکا تھا۔