کیا کمر درد کی اصل وجہ وٹامن ڈی کی کمی ہے؟ نئی تحقیق میں اہم انکشاف

news-banner

تازہ ترین - 19 مارچ 2026

دنیا بھر میں کروڑوں افراد دائمی کمر درد کا شکار ہیں اور حالیہ طبی تحقیق نے اس مسئلے کو وٹامن ڈی کی کمی سے جوڑ دیا ہے۔

 

ماہرین کے مطابق جسم میں وٹامن ڈی کی کم سطح نہ صرف ہڈیوں اور پٹھوں کو کمزور کرتی ہے بلکہ کمر درد کی شدت میں بھی اضافہ کر سکتی ہے۔

 

 کیوریئس جرنل آف میڈیکل سائنسز میں شائع تحقیق کے مطابق جن افراد میں وٹامن ڈی کی شدید کمی تھی، ان میں کمر کے نچلے حصے میں درد زیادہ محسوس کیا گیا۔

 

تحقیق میں ایسے بالغ افراد کا جائزہ لیا گیا جو 12 ہفتوں سے زائد عرصے سے کمر درد میں مبتلا تھے۔

 

 نتائج میں بتایا گیا کہ وٹامن ڈی کی کمی رکھنے والے افراد روزمرہ کاموں میں زیادہ مشکلات اور جسمانی کمزوری کا سامنا کر رہے تھے۔

 

وٹامن ڈی کیوں ضروری ہے؟

 

وٹامن ڈی ہڈیوں کی مضبوطی، پٹھوں کی کارکردگی اور جسم میں دیگر غذائی اجزاء کے جذب کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اس کی کمی جسمانی درد، کمزوری اور تھکن کا سبب بن سکتی ہے۔

 

وٹامن ڈی کی کمی کی علامات

 

  • مسلسل تھکن یا کمزوری
  •  
  • پٹھوں میں درد یا اکڑاؤ
  •  
  • جوڑوں اور ہڈیوں میں درد
  •  
  • بغیر واضح وجہ کے کمر کے نچلے حصے میں درد
  •  

کن افراد کو زیادہ خطرہ ہے؟

 

زیادہ عمر والے افراد، غیر متوازن غذا کھانے والے، گہرے رنگت والے افراد جن میں سورج کی روشنی سے وٹامن ڈی بننے کی رفتار کم ہوتی ہے، دھوپ میں کم وقت گزارنے والے اور اندرونی یا دفتری ماحول میں کام کرنے والے افراد وٹامن ڈی کی کمی کے زیادہ خطرے میں ہیں۔

 

وٹامن ڈی کیسے بہتر کی جا سکتی ہے؟

 

ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ روزانہ مناسب دھوپ لیں، مچھلی، انڈے اور فورٹیفائیڈ دودھ جیسی غذائیں استعمال کریں اور ڈاکٹر کے مشورے سے سپلیمنٹس لیں۔

 

کب ڈاکٹر سے رجوع کریں؟

 

اگر کمر درد طویل عرصے تک برقرار رہے یا تھکن اور پٹھوں کی کمزوری جیسی علامات ظاہر ہوں تو خون کا ٹیسٹ کروا کر وٹامن ڈی کی سطح چیک کروانا ضروری ہے۔

 

 بروقت تشخیص اور احتیاطی اقدامات سے دائمی کمر درد کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔