ایران کا حملوں کی 80 ویں لہر کا آغاز، تل ابیب پر میزائلوں اور ڈورنز کی بارش، 12 اسرائیلی زخمی

news-banner

دنیا - 25 مارچ 2026

تہران: ایران نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف حملوں کی 80 ویں لہر کا آغاز کر دیا ہے۔

 

ایران نے اسرائیل پر میزائل اور ڈرونز سے حملے کیے، جس کے نتیجے میں تل ابیب میں متعدد عمارتیں ملیا میٹ ہو گئیں اور کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا۔

 

تازہ حملے میں بنی براک میں 12 اسرائیلی شہری زخمی ہوئے، اور آئرن ڈوم ایرانی میزائلوں کو روکنے میں ناکام رہا۔

 

ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق صیہونی ریجیم کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو مقبوضہ علاقوں میں نشانہ بنایا گیا۔

 

 پاسداران انقلاب نے بتایا کہ خیبرشکن، ایماد اور سجیل میزائلز اور تباہ کن ڈرونز استعمال کیے گئے، اور تل ابیب میں اسرائیلی فوج کے کمرشل، لاجسٹک اور سپورٹ مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔

 

حملوں کے بعد اسرائیلی پولیس نے صحافیوں کو کوریج سے روک دیا۔

 

 پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے میڈیا کوریج پر پابندی اس بات کا اظہار ہے کہ ایران اسرائیل میں کس قدر تباہی مچا رہا ہے۔

 

ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اسرائیل کے علاوہ کویت، اردن اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا، جہاں میزائل اور ڈرونز کے حملوں میں دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچا۔

 

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بحرین کے ایک جزیرے میں امریکی فوجی اڈے پر میزائل حملے میں ایک اماراتی فوجی کنٹریکٹر ہلاک ہوا جو مراکش کا شہری تھا، جبکہ درجنوں بحرینی اور اماراتی اہلکار زخمی ہوئے جن میں سے 4 کی حالت نازک ہے۔

 

اس کے علاوہ حیفہ میں دشمن کے اہم ٹھکانوں اور کویت ایئرپورٹ کے ایندھن کے ٹینک پر ڈرون حملے کیے گئے، کویتی حکام کے مطابق کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

 

ایرانی میڈیا نے اصفہان میں بمباری کی ویڈیوز جاری کی ہیں، جس میں مارکیٹیں اور ریستوران تباہ ہوئے، اور دعویٰ کیا کہ امریکا اور اسرائیل دکانیں تباہ کر کے ایران کے نیوکلیئر پروگرام کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔