پاکستان - 08 اپریل 2026
جنگ بندی کا فیصلہ پاکستان کی درخواست پر کیا گیا، صدر ٹرمپ
تازہ ترین - 08 اپریل 2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل ٹروتھ پیغام میں کہا ہے کہ ایران کے خلاف کارروائی روکنے اور 2 ہفتوں کی جنگ بندی کا فیصلہ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر کیا گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’سوشل ٹروتھ‘ پر جاری پیغام میں ایران کے ساتھ جنگ بندی سے متعلق اہم انکشاف کیا ہے۔
انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سرکاری بیان بھی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ٹروتھ سوشل پر شیئر کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قیادت، خصوصاً وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ہونے والی بات چیت کے بعد انہوں نے ایران پر مجوزہ حملہ روکنے کا فیصلہ کیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق انہوں نے ایران کے خلاف ’تباہ کن طاقت‘ کے استعمال کو مؤخر کیا اور 2 ہفتوں کے لیے بمباری اور حملے روکنے پر رضامندی ظاہر کی۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ اس شرط کے ساتھ کیا گیا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو مکمل، فوری اور محفوظ طریقے سے کھولے گا۔
اپنے پیغام میں امریکی صدر نے اس پیشرفت کو ’دو طرفہ جنگ بندی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اپنے فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے اور ایران کے ساتھ طویل مدتی امن معاہدے کے لیے پیشرفت جاری ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ایران کی جانب سے 10 نکاتی تجویز موصول ہوئی ہے، جسے مذاکرات کے لیے قابل عمل بنیاد سمجھا جا رہا ہے، جبکہ ماضی کے بیشتر تنازعاتی نکات پر بھی اتفاق ہو چکا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ 2 ہفتوں کی یہ مہلت حتمی معاہدے کو مکمل کرنے کا موقع فراہم کرے گی اور یہ پیش رفت مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے قیام کی جانب اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یورینیم کا مسئلہ مکمل طور پر سنبھال لیا جائے گا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے ایران کے ساتھ 2 ہفتوں کی جنگ بندی کو بلاشبہ امریکا کی مکمل فتح قرار دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ معاہدے کے تحت ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا معاملہ بھی بہترین انداز میں حل کر لیا جائے گا، ورنہ میں یہ سمجھوتہ نہ کرتا۔
اس سے قبل صدر ٹرمپ اس معاملے پر ایک سوال کے جواب میں کہہ چکے تھے کہ مجھے ان ذخائر کی پرواہ نہیں۔
ان کا مؤقف تھا کہ افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو سیٹلائٹ کے ذریعے مانیٹر کیا جا سکتا ہے۔
دیکھیں

