کھیل - 24 اپریل 2026
ایرانی رہنما کیا سوچتے ہیں کیا کرتے ہیں کہاں جاتے ہیں سب معلوم ہے،جنرل ڈین کین
دنیا - 24 اپریل 2026
امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین کا کہنا ہے کہ ایرانی رہنماؤں کے بارے میں جانتے ہیں کہ ان کی زندگی کے طور طریقے کیا ہیں، وہ کیا سوچتے ہیں کیا کرتے ہیں کہاں جاتے ہیں سب معلوم ہے۔
پینٹاگون میں امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے جنرل ڈین کین نے کہا کہ ہماری انٹیلی جنس مختلف ذرائع سے معلومات اکٹھی کرتی ہے اس کی تفصیلات میں نہیں جاؤں گا، ہماری انٹیلی جنس ایجنیساں ایران کے بارے میں سب کچھ جانتی ہیں، ایران کی لڑنے کی صلاحیت، ہتھیار، صنعتی اور معاشی نظام کے بارے میں سب کچھ معلوم ہے۔
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے کہا کہ ایران اپنے پڑوسی ممالک پر حملہ اور گلوبل شپنگ پر ٹیکس عائد کرکے تنازعہ کو بڑھانا چاہتا ہے، دو ایسے جہاز قبضے میں لیے گئے جو ایرانی بندرگاہوں سے روانہ ہوئے تھے۔
امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہیں بنا سکتا، بہتر ہوگا کہ ڈیل کرلے، ایران کے پاس ایک اچھا معاہدہ کرنے کا موقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے 45 ہزار مظاہرین کو قتل کیا، ایران کے پاس مذاکرات کی میز پر دانشمندی سے فیصلہ کرنے کا کھلا موقع موجود ہے، امریکی صدر ٹرمپ کا ایران کے حوالے سے مشن بڑا واضح ہے، ایران کے لیے بہتر ہوگا کہ ایک اچھی ڈیل قبول کرے، یہ لڑائی صرف امریکا کی نہیں ہونی چاہیے۔
امریکی وزیر جنگ نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے اب تک 34 بحری جہازوں کو واپس بھیجا جا چکا ہے، آبنائے ہرمز پر ہمارا مکمل کنٹرول ہے، جب تک ضرورت ہوگی ناکا بندی برقرار رہے گی، یہ عالمی سطح تک پھیل گئی، ناکا بندی سے پہلے ایرانی بندر گاہوں سے نکلنے والے ایرانی ڈارک فلیٹ کے دو جہاز ضبط کر لیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف مکمل ناکا بندی کر رکھی ہے، ناکا بندی کو مزید سخت کر رہے ہیں، مزید بارودی سرنگیں بچھانےکی کوشش جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوگی، آبنائے ہرمز کے معاملے پر یورپی ممالک کی سنجیدہ کوششوں کا خیر مقدم کریں گے۔
پیٹ ہیگستھ نے مزید کہا کہ ایرن کا محاصرہ جاری ہے، اسے آئندہ چند روز میں مزید بڑھائیں گے، آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے کے وقت کے بارے میں قیاس آرائی نہیں کر رہے، امریکی فوج نے متعدد بحری جہاز قبضے میں لیے، مزید بھی لیں گے۔
دیکھیں

