بنگلہ دیش،54 برس قبل لاپتہ ہونیوالا ماہی گیرگھر پہنچ گیا،خاندان میں تنازع
بنگلہ دیش کے ساحلی علاقے میں ایک حیران کن واقعے نے لوگوں کو ششدر کر دیا، جہاں 54 برس قبل لاپتا ہونے والا ایک 83 سالہ ماہی گیر اچانک اپنے گھر واپس پہنچ گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سید احمد نامی ماہی گیر تقریباً 54 سال قبل کتب دیا کے ساحل کے قریب ایک ماہی گیری ٹرالر الٹنے کے بعد لاپتا ہوگیا تھا۔
کئی دہائیوں تک اس کا کوئی سراغ نہ ملنے پر اہلِ خانہ نے سمجھ لیا تھا کہ وہ سمندر میں جاں بحق ہوچکا ہے۔
رپورٹس کے مطابق بزرگ شخص 5 مئی کو ہاتیا میونسپلٹی کے علاقے پنچ بیگھا گاؤں میں واقع اپنے آبائی گھر واپس آیا، جس کے بعد علاقے میں جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے اور لوگوں میں تجسس پھیل گیا۔
مقامی افراد کی بڑی تعداد اس شخص کو دیکھنے کے لیے اس کے گھر پہنچ رہی ہے، جس کی واپسی کو لوگ ناقابلِ یقین قرار دے رہے ہیں۔
خاندانی ذرائع کے مطابق سمندری حادثے کے بعد سید احمد کسی طرح بھارت پہنچ گیا تھا، جہاں اس نے کئی دہائیاں مختلف علاقوں اور مذہبی اداروں میں گزاریں۔
حال ہی میں مبینہ طور پر ہاوڑہ ریلوے اسٹیشن کے قریب لٹنے کے بعد بھارت کی بارڈر سیکیورٹی فورس نے اسے تحویل میں لیا۔
قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد اسے بنگلہ دیش واپس بھیج دیا گیا۔
ابتدائی طور پر اہلِ خانہ کو اس کی شناخت پر یقین نہیں آیا، تاہم خاندان کے بزرگ افراد اور مقامی لوگوں نے ذاتی یادوں اور خاندانی تفصیلات کی بنیاد پر اسے پہچان لیا۔
اس غیرمعمولی واپسی کے بعد خاندان کے اندر تنازع بھی پیدا ہوگیا ہے، سید احمد کے بیٹے اکرم نے ہاتیا تھانے میں جنرل ڈائری (جی ڈی) درج کرائی ہے۔
شکایت کنندہ نے الزام لگایا گیا ہے کہ بعض رشتہ دار جائیداد اور مالی معاملات کے باعث اس کے والد کو اپنی تحویل میں لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ہاتیا پولیس اسٹیشن کے افسر انچارج کبیر حسین نے تصدیق کی کہ معاملہ پولیس کے علم میں آچکا ہے اور خاندان کے افراد کے درمیان بزرگ شخص کی دیکھ بھال اور رہائش کے حوالے سے بات چیت جاری ہے۔