World

روس یوکرین جنگ نے لاٹویا کی حکومت گرا دی، وزیراعظم مستعفی

روس یوکرین جنگ نے لاٹویا کی حکومت گرا دی، وزیراعظم مستعفی
۱ منٹ پہلے

رواں ماہ ملک میں یوکرین کے ڈرونز گرنے کے معاملے پر شدید سیاسی بحران پیدا ہوگیا تھا جس کا انجام حکومت کے خاتمے پر ہوا روس اور یوکرین کے پڑوس میں واقع یورپی ملک لاٹویا کی وزیراعظم ایویکا سیلینا نے بڑھتے سیاسی دباؤ کے بعد عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔

 

 حال ہی میں چند یوکرینی ڈرونز روس کے بجائے لاٹویا میں گرے تھے، جس کے بعد ملک میں سیاسی بحران پیدا ہوگیا تھا، یہی بحران اب وزیراعظم کے استعفے اور اتحادی حکومت کے خاتمے کا باعث بن گیا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق لاٹویا کی دائیں بازو کی جماعت ’نیو یونٹی‘ سے تعلق رکھنے والی وزیراعظم ایویکا سیلینا نے جمعرات کو ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے اپنے بیان میں وزارتِ عظمیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کردیا ہے۔

 

 یہ سیاسی بحران اس وقت پیدا ہوا جب 7 مئی کو یوکرین کے دو جنگی ڈرونز روس کی سرحد عبور کرتے ہوئے لاٹویا کی فضائی حدود میں داخل ہوئے تھے اور مشرقی شہر ’ریزیکنے‘ میں واقع ایک آئل ڈپو کے خالی ٹینکوں سے ٹکرا کر تباہ ہوگئے تھے۔

 

 یوکرینی وزیرِ خارجہ کے مطابق ان ڈرونز کا اصل ہدف روس کے اندر موجود تیل کی تنصیبات تھیں، تاہم روسی فوج کے الیکٹرانک وارفیئر سسٹم، یعنی سگنلز جام کرنے والے نظام کے باعث ڈرونز اپنا راستہ کھو بیٹھے اور نیٹو کے رکن ملک لاٹویا کی حدود میں جا گرے۔ اس واقعے کے بعد لاٹویا میں حکومت کو شدید عوامی اور سیاسی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ وزیراعظم ایویکا سیلینا نے ملک کے اینٹی ڈرون دفاعی نظام کی ناکامی پر وزیرِ دفاع اینڈرس سپروڈز سے استعفیٰ طلب کیا، جس کے بعد انہوں نے 10 مئی کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ 

 

مستعفی ہونے والے وزیرِ دفاع کا تعلق حکومتی اتحادی جماعت ’پروگریسیوز پارٹی‘ سے تھا۔ پارٹی نے اپنے رہنما کو عہدے سے ہٹائے جانے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے بدھ کے روز وزیراعظم کی حکومت سے حمایت واپس لینے کا اعلان کردیا۔ اس فیصلے کے بعد ایویکا سیلینا کی حکومت پارلیمنٹ میں اپنی اکثریت کھو بیٹھی، جس کے نتیجے میں اتحادی حکومت عملاً ختم ہوگئی۔ 

 

اکتوبر 2026 میں ہونے والے عام انتخابات سے چند ماہ قبل حکومت کے بحران کا شکار ہونے اور پارلیمانی اکثریت ختم ہونے کے بعد وزیراعظم کو اپنے استعفے اور اتحادی حکومت کے خاتمے کا اعلان کرنا پڑا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں ایویکا سیلینا نے کہا کہ وزیراعظم کے عہدے سے الگ ہونے کا فیصلہ مشکل مگر دیانتدارانہ ہے۔

 

 ایویکا نے الزام عائد کیا کہ موجودہ صورت حال میں بعض سیاسی قوتوں نے حسد اور ذاتی مفاد کو عوامی مفاد پر فوقیت دی۔ انہوں نے ایک مضبوط اور پروفیشنل وزیرِ دفاع سامنے لانے اور مسئلے کا حل نکالنے کے بجائے ملک میں بحران پیدا کرنے کو ترجیح دی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح ہمیشہ لاٹویا کے عوام کی سلامتی رہی ہے، سیاسی جماعتیں یا اتحاد بدل سکتے ہیں لیکن ریاست اور عوام ان کے لیے مقدم رہیں گے۔

 

 اپنے بیان کے اختتام پر انہوں نے ان کا ساتھ دینے، اعتماد کرنے اور تنقید کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا وہ استعفیٰ دے رہی ہیں لیکن ہار نہیں مان رہی، اور نہ ہی ملک چھوڑ کر کہیں جارہی ہیں۔ اس اعلان کے بعد لاٹویا کے صدر نے عبوری وزیراعظم کے انتخاب کے لیے جمعے کو تمام پارلیمانی جماعتوں کے سربراہان کو طلب کرلیا ہے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں