ٹک ٹاکر ثناء یوسف کے قاتل کو سزائے موت
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے ٹک ٹاکر ثناء یوسف کے قتل کیس میں ملزم عمر حیات کو سزائے موت سنا دی۔
ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد افضل مجوکہ نے ثناء یوسف قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے ثنا یوسف قتل کیس کا مختصر فیصلہ جاری کیا۔ ایڈیشنل سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے 2 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں مجرم عمر حیات کو قتل کے الزام میں سزائے موت اور 20 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ مجرم کو سیکشن 392 کے تحت 10 سال قید اور 2 لاکھ روپے جرمانہ کیا جاتا ہے، مجرم کو سیکشن 499 کے تحت 10 سال قید اور 2 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا کہ مجرم کو سیکشن 411 کے تحت 1 سال قید اور 1 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔ مجرم عمر حیات کو مجموعی طور پر 21 سال قید اور 25 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔
دورانِ سماعت عدالت میں ملزم عمر حیات کی کالز اور چیٹ کے سکرین شاٹس پیش کیے گئے۔
سماعت کے دوران ہی مدعی کے وکیل نے ملزم کو 2 بار سزائے موت دینے کی استدعا کی۔
ملزم کے وکیل نے عدالت میں اپنے دلائل میں کہا کہ ملزم عمر حیات نے اسٹیٹ کونسل اور ٹرائل کورٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا، 2 درخواستیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ التواء ہیں، پہلے سے سوچ کر رکھنا کہ ملزم کو سزائے موت دینا ہے، زیادتی ہو گی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز ثناء یوسف قتل کیس میں ملزم عمر حیات نے صحتِ جرم سے انکار کر دیا تھا۔
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں ثناء یوسف قتل کیس کی سماعت میں ملزم عمر حیات نے کہا تھا کہ اس نے ثناء کو قتل کرنے کا کوئی اعتراف یا کوئی انکشاف نہیں کیا، میرا ثناء یوسف سے کوئی رابطہ نہیں تھا۔
اس پر جج نے استفسار کیا کہ دورانِ تفتیش ثناء یوسف کے فون سے کاکا کے نام سے ایک نمبر سامنے آیا تھا، موبائل فارنزک کے بعد نمبر آپ کا نکلا، اس پر کیا کہیں گے؟
اس پر ملزم عمر حیات نے کہا کہ میں اپنے وکیل کے بغیر کوئی جواب نہیں دے سکتا۔
ثناء یوسف کی والدہ کا ردعمل عدالتی فیصلے پر ثناء یوسف کی والدہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فیصلے سے مطمئن ہوں، اللّٰہ کا شکر ہے انصاف ہوا۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے والدہ ثناء یوسف نے کہا کہ تمام لوگوں کا بہت شکریہ جنہوں نے ہمارا ساتھ دیا۔
ٹک ٹاکر ثناء یوسف کو 2 جون 2025ء کو اسلام آباد میں ان کے گھر میں قتل کیا گیا تھا، کیس کے ملزم عمر حیات کو 3 جون 2025ء کو جڑانوالہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔
13 جون کو ملزم عمر حیات کی شناخت پریڈ ہوئی تھی، جڑانوالہ سے ملزم عمر حیات کا دوسرا موبائل فون برآمد ہوا تھا جبکہ 20 ستمبر کو ملزم عمر حیات پر فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔
25 ستمبر کو پہلی گواہی ریکارڈ کی گئی تھی اور کیس میں مجموعی طور پر 31 گواہان شامل تھے جن میں سے 27 کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔