گوگل کی 25 برس بعد سرچ میں بڑی تبدیلی، کیا ویب ٹریفک کا دور ختم ہونے والا ہے؟
گوگل نے 25 سال میں پہلی بار اپنی سرچ سروس میں سب سے بڑی تبدیلی متعارف کرا دی ہے۔
’الفابیٹ‘ کے ذیلی ادارے گوگل نے سرچ کو صرف سوالات کے جواب دینے والے پلیٹ فارم کے بجائے ایک ذہین اور مصنوعی ذہانت سے چلنے والے معاون میں تبدیل کرنا شروع کردیا ہے، جو پیچیدہ اور کئی مراحل پر مشتمل کام انجام دے سکے گا۔
سرچ میں مصنوعی ذہانت کے فیچرز کا اضافہ
اس بڑے اپ ڈیٹ کے تحت گوگل پہلی بار سرچ میں جیمنائی 3.5 فلیش کو ضم کرے گا، فعال ’سرچ ایجنٹس‘ متعارف کرائے گا اور سرچ انٹرفیس کو نئے انداز میں پیش کرےگا۔
نئے ’ذہین سرچ باکس‘ کے ذریعے صارفین زیادہ قدرتی اور گفتگو کے انداز میں سوالات پوچھ سکیں گے، جبکہ یہ نظام تصاویر، متن، ویڈیوز، فائلز اور کروم ٹیبز سمیت مختلف فارمیٹس میں دی گئی معلومات کو سمجھ سکے گا۔
اس اپ ڈیٹ میں ایسے معلوماتی ایجنٹس بھی شامل ہیں جو خریداری، مالیات اور خبروں سمیت مختلف شعبوں میں ویب ڈیٹا کا مسلسل تجزیہ کریں گے۔ یہ ایجنٹس صارف کی دی گئی ہدایات کی بنیاد پر خلاصہ شدہ اپ ڈیٹس فراہم کریں گے۔
گوگل کے مطابق یہ فیچر رواں موسم گرما میں پرو اور الٹرا سبسکرائبرز کے لیے متعارف کرایا جائےگا۔
گوگل سرچ کی سربراہ لز ریڈ نے ایک پریس بریفنگ میں کہاکہ صارف مخصوص پیرامیٹرز کے ساتھ مارکیٹ کی صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے الرٹ ترتیب دے سکیں گے، جبکہ مصنوعی ذہانت پر مبنی ایجنٹ نگرانی کا مکمل منصوبہ تیار کرےگا، جس میں مطلوبہ ٹولز اور ڈیٹا تک رسائی بھی شامل ہوگی۔
نئی تبدیلیوں کے بعد گوگل کی ذاتی نوعیت کی مصنوعی ذہانت سروس کو 98 زبانوں اور قریباً 200 ممالک میں مفت متعارف کرایا جا رہا ہے۔ صارفین اپنی جی میل، گوگل کیلنڈر اور تصاویر کو مصنوعی ذہانت کے ساتھ منسلک کر سکیں گے تاکہ نظام کو مزید سیاق و سباق حاصل ہو سکے۔
کمپنی کے مطابق صارفین کو اپنی پرائیویسی اور ڈیٹا کے استعمال پر مکمل اختیار حاصل ہوگا۔
گوگل اینٹی گریویٹی اور جیمنائی 3.5 فلیش کی مدد سے سرچ اب انٹرایکٹو گرافکس، تصویری خاکوں اور فرضی ماڈل پر مبنی جوابات بھی تیار کر سکے گی۔
ماہرین کے مطابق روایتی سرچ سے مصنوعی ذہانت پر مبنی سرچ کی جانب یہ بڑی تبدیلی اس بات کی علامت ہے کہ مصنوعی ذہانت سرچ انجنز میں تیزی سے اثر انداز ہو رہی ہے۔ اب صارفین ویب سائٹس پر خود کلک کرنے کے بجائے مصنوعی ذہانت کے فراہم کردہ معلوماتی ایجنٹس پر زیادہ انحصار کر سکتے ہیں۔
اگرچہ ٹیکنالوجی کے شوقین افراد اس سہولت کو پسند کر رہے ہیں، تاہم پبلشرز اور میڈیا ادارے ویب ٹریفک میں ممکنہ کمی پر تشویش کا شکار ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز انسٹیٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف جرنلزم کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر کے میڈیا ایگزیکٹوز کو خدشہ ہے کہ سرچ انجنز سے ویب سائٹس پر آنے والا ٹریفک اگلے 3 برسوں میں 43 فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ مصنوعی ذہانت کی معاونت کی وجہ سے نیوز ویب سائٹس ایک سال کے دوران اپنی سرچ ٹریفک کا ایک تہائی حصہ کھو سکتی ہیں۔
ادارے کے سینیئر ریسرچ ایسوسی ایٹ نک نیومین نے کہاکہ یہ واضح نہیں کہ مستقبل میں کیا ہوگا، تاہم پبلشرز کو خدشہ ہے کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹس معلومات تک رسائی کا ایسا نیا اور آسان ذریعہ بن رہے ہیں جو نیوز برانڈز اور صحافیوں کو پیچھے چھوڑ سکتا ہے۔