Breaking News

دوا اصلی ہے یا جعلی؟ عام شہری کے لیے اب پہچان آسان

دوا اصلی ہے یا جعلی؟ عام شہری کے لیے اب پہچان آسان
۵ منٹ پہلے

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ملک سے جعلی ادویات کے خاتمے اور ان کی پہچان کو آسان بنانے کے لیے ایک اہم قدم اٹھا لیا ہے۔

 

وفاقی حکومت نے جعلی ادویات کی روک تھام اور عام شہریوں کے لیے اصل اور جعلی دوا میں فرق کرنا آسان بنانے کے لیے ادویات کے پیکٹ پر بارکوڈ لگانے کی منظوری دے دی ہے۔

 

حکومت کے اس فیصلے کے بعد اب ہر دوا کے پیکٹ پر بارکوڈ لگانا لازمی ہوگا اور صارفین پیکٹ پر موجود بارکوڈ کے ذریعے دوا کے اصلی یا جعلی ہونے کی تصدیق کر سکیں گے۔

 

اس حوالے سے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ترامیم کی منظوری دیتے ہوئے ادویات کے لیے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔

 

وزیر صحت نے کہا کہ وفاقی کابینہ کا یہ فیصلہ ملک سے جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ اس نظام کے ذریعے صارف خود ڈیجیٹل طریقے سے دوا کی جانچ پڑتال کر سکے گا، جبکہ بارکوڈ نظام جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے میں مددگار ثابت ہوگا۔

 

مصطفیٰ کمال نے مزید بتایا کہ ڈریپ جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی اور دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے بارکوڈ کا نفاذ لازمی ہوگا۔ کمپنیاں دوا کے پیک پر ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں گی۔

 

اس نظام کے ذریعے صارفین باآسانی دوا کی میعاد، استعمال اور قیمت سے متعلق مستند معلومات حاصل کر سکیں گے۔ ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کیے جائیں گے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں ادویات کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم جعلی ادویات کے خلاف ایک مؤثر دیوار ثابت ہوگا، جس سے عوام کی صحت اور زندگی کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے گا۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں