نائٹ کلب واقعہ ایسا جرم نہیں جس پر سٹوکس کوفارغ کیا جائے،ناصر حسین
ڈسپلن کی خلاف ورزی پر انگلینڈ کے کپتان بین اسٹوکس کو ٹیم سے ڈراپ کرنے کے معاملے پر سابق کپتانوں ناصر حسین اور مائیکل ایتھرٹن کا ردِعمل سامنے آ گیا ہے۔
سابق کپتانوں نے نائٹ کلب کے واقعے کو کپتانی سے نہ ہٹائے جانے والا جرم قرار دیا ہے۔
اس حوالے سے ناصر حسین کا کہنا ہے کہ بین اسٹوکس نے انگلینڈ ٹیم کے لیے بہت کچھ کیا ہے اور وہ ٹیم کے بہترین لمحات، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ فتوحات کا حصہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسٹوکس ایک “وارئیر” ہیں لیکن اس مرتبہ ان سے ایک بڑی غلطی ہوئی ہے۔
ناصر حسین نے کہا کہ ان کے خیال میں یہ ایسا جرم نہیں جس پر انہیں ٹیم سے فارغ کر دیا جائے۔ ان کے مطابق بین اسٹوکس کے لیے یہ ایک مشکل وقت ہے اور عظیم کرکٹرز کو جذبات میں آ کر ریٹائرمنٹ جیسے فیصلے نہیں کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ ان کی آخری اننگز ثابت ہوئی تو افسوس ہوگا۔
دوسری جانب مائیکل ایتھرٹن نے کہا کہ یہ معاملہ اس لیے زیادہ بڑا بنا کیونکہ ایشیز کے بعد انگلینڈ ٹیم کے گرد ایک مخصوص بیانیہ قائم ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فتح کے بعد رات گئے تک باہر رہنا نہ تو برطرفی اور نہ ہی استعفیٰ لینے والا جرم ہے۔
ایتھرٹن نے کہا کہ بین سٹوکس چار سال سے ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں اور اصل بات یہ ہے کہ اس وقت وہ کیا سوچ رہے ہیں، یہ صرف وہی جانتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں جب بین اسٹوکس کے بارے میں پوچھا جائے گا کہ انہوں نے ریٹائرمنٹ کیوں لی، تو یہ سن کر افسوس ہوگا کہ کرفیو کے قانون کی خلاف ورزی جیسے واقعے کی وجہ سے ایسا ہوا۔