Breaking News

بینک بغیرمصدقہ قانونی وجہ کےاکاؤنٹس بلاک یا منجمد نہیں کر سکتے۔اسلام آباد ہائیکورٹ

بینک بغیرمصدقہ قانونی وجہ کےاکاؤنٹس بلاک یا منجمد نہیں کر سکتے۔اسلام آباد ہائیکورٹ
۳ دن پہلے

اسلام آباد ہائیکورٹ نے بغیر قانونی جواز شہری کا بینک اکاؤنٹ بلاک کرنے کی غلطی تسلیم کرنے پر ایک نجی بینک کو 3 لاکھ روپے بطور ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

 

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے 6 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ بینک بغیر مصدقہ قانونی وجہ کے شہریوں کے بینک اکاؤنٹس بلاک یا منجمد نہیں کر سکتے۔

 

عدالتی فیصلے کے مطابق یہ حکم این سی سی آئی اے کی انکوائری کے دوران شہری کا اکاؤنٹ ازخود بلاک کیے جانے کے خلاف دائر درخواست پر جاری کیا گیا۔ عدالت نے کہا کہ اکاؤنٹ بلاک کرنے کے باعث شہری کو قانونی چارہ جوئی کرنا پڑی، جس پر اسے 3 لاکھ روپے کے اخراجات برداشت کرنا پڑے۔

 

عدالت نے ہدایت کی کہ نجی بینک درخواست گزار کو یہ رقم ایک ماہ کے اندر ادا کرے اور اس کی عمل درآمد رپورٹ عدالت میں جمع کرائے۔

 

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ سٹیٹ بینک کو بھی اس معاملے کا نوٹس لے کر آئندہ کے لیے واضح گائیڈ لائنز جاری کرنی چاہئیں تاکہ شہریوں کے اکاؤنٹس بلا جواز بلاک نہ کیے جائیں۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ کسی شہری کو اس کی مالی آزادی سے صرف قانونی جواز کے بغیر محروم نہیں کیا جا سکتا۔

 

تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ بینک اکاؤنٹ میں موجود رقم آئین کے آرٹیکل 23 اور 24 کے تحت شہری کی ملکیت (پراپرٹی) ہے، اور اس تک رسائی سے محرومی صرف مضبوط قانونی بنیاد پر ہی ممکن ہے۔

 

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ بینک اپنے صارفین کی رقوم امانت کے طور پر رکھتے ہیں، اس لیے ان پر قانونی احتیاط اور ذمہ داری لازم ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ موجودہ کیس میں بینک نے احتیاطاً خود ہی اکاؤنٹ بلاک کر کے غیر ضروری اقدام کیا۔

عدالت نے مزید نوٹ کیا کہ این سی سی آئی اے نے بھی واضح کیا کہ اس نے اکاؤنٹ بلاک کرنے کی کوئی ہدایت نہیں دی تھی، جبکہ بینک نے بھی اپنی غلطی تسلیم کر لی۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں