کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی ایک مبینہ آڈیو کال سامنے آگئی
آزاد کشمیر میں حالیہ احتجاجی سرگرمیوں کے دوران کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے کردار سے متعلق ایک مبینہ آڈیو کال سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جس میں بعض عہدیداروں پر احتجاجی سرگرمیوں کو مزید وسعت دینے اور مختلف اقدامات کی منصوبہ بندی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق مبینہ لیک آڈیو میں ایڈووکیٹ شاہ نواز اور ماجد علی کے درمیان گفتگو ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، جس میں مبینہ طور پر مختلف شہروں میں احتجاجی سرگرمیوں کو بڑھانے پر بات کی گئی۔
رپورٹس کے مطابق آڈیو سے منسوب دعوؤں میں سڑکوں کی بندش، اسپتالوں کی سرگرمیوں کو متاثر کرنے اور کارکنوں کو متحرک کرنے جیسے موضوعات شامل بتائے جا رہے ہیں۔ اسی طرح قانون نافذ کرنے والے اداروں پر دباؤ بڑھانے اور احتجاجی نعروں کے ذریعے کارکنوں کو سرگرم رکھنے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔
مبینہ گفتگو میں رضاکارانہ گرفتاریاں، احتجاجی حکمتِ عملی اور ریاستی اداروں کے خلاف مزاحمت سے متعلق گفتگو شامل ہونے کا بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
حکام سے منسوب مؤقف کے مطابق آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں ہڑتالوں، راستوں کی بندش، املاک کو نقصان پہنچانے اور اہلکاروں پر حملوں کے واقعات کے تناظر میں بعض عناصر کے کردار کی تحقیقات جاری ہیں۔
تاہم، ان دعوؤں اور مبینہ آڈیو کی آزادانہ طور پر تصدیق سامنے نہیں آئی، اور متعلقہ افراد یا کمیٹی کا باضابطہ مؤقف بھی سامنے آنا باقی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق احتجاج اور سیاسی سرگرمیوں کے دوران قانون کی پابندی، عوامی سہولیات کا تحفظ اور پرامن طرزِ عمل اہم عناصر ہوتے ہیں۔