عوامی ایکشن کمیٹی سے مذاکرات ہونے چاہئیں،فضل الرحمٰن
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی نے ان سے رابطہ کیا ہے، تاہم کمیٹی نے آج اپنا آئندہ لائحہ عمل پیش نہیں کیا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے باضابطہ خط موصول ہوا، جو حکومت کو ارسال کر دیا گیا، تاہم اب تک اس کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ راولاکوٹ میں بڑی تعداد میں لوگ موجود ہیں، اس لیے بات چیت ہونی چاہیے اور چارٹر آف ڈیمانڈ کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق مظاہرین کی تقاریر کو بنیاد بنا کر تشدد نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے عوامی ایکشن کمیٹی کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا کہ مظفر آباد کی جانب اعلان کردہ مارچ کو مؤخر کر دیا گیا۔
جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف کے بیانات پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کا ردِعمل وزیرِ دفاع کے منصب کے مطابق نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف سخت مؤقف اور دوسری طرف مفاہمت کی کوششیں متضاد پیغام دیتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن کو مجبور نہ کیا جائے، اور حکومت کو تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں جذباتی ردِعمل کے بجائے سیاسی مکالمہ زیادہ مؤثر راستہ ہے۔