تھیلیسیمیا کی 18 سالہ مریضہ منیبہ مقصود ایک دن کیلئے ڈپٹی کمشنر اٹک بن گئیں
تھیلیسیمیا کی مریضہ 18 سالہ منیبہ مقصود ایک دن کے لیے اٹک کی ڈپٹی کمشنر بن گئیں۔
ڈپٹی کمشنر اٹک راؤ عاطف رضا نے پیر کے روز منیبہ مقصود کو اپنے دفتر میں ایک دن کے لیے اعزازی ڈپٹی کمشنر کے طور پر کام کرنے کی دعوت دی۔
منیبہ مقصود اپنے والدین کے ہمراہ ڈپٹی کمشنر کے دفتر پہنچیں، جہاں انہیں ہمت اور حوصلے کی علامت کے طور پر سرکاری کرسی پر بٹھایا گیا اور انتظامی امور سے متعلق بریفنگ دی گئی۔
اس موقع پر منیبہ مقصود نے کہا کہ آج کا دن ان کے لیے صرف ایک دن نہیں بلکہ ایک ایسا خواب ہے جس کے بارے میں انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ بیماری کے ساتھ زندگی گزار رہی ہیں لیکن بڑے خواب دیکھنا نہیں چھوڑیں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کرسی پر بیٹھ کر انہیں یہ یقین ملا ہے کہ زندگی اب بھی خوبصورت ہو سکتی ہے اور اگر امید زندہ رکھی جائے تو خوابوں کی تعبیر حاصل کی جا سکتی ہے۔
منیبہ مقصود کا کہنا تھا کہ وہ مضبوط بننا چاہتی ہیں، اپنی بیماری کا بہادری سے مقابلہ کرنا چاہتی ہیں اور اپنے جیسے دیگر بچوں کو یہ پیغام دینا چاہتی ہیں کہ وہ کمزور نہیں ہیں۔
منیبہ مقصود کے والد نے ضلعی انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تھیلیسیمیا کے مریض بچوں کے والدین مسلسل غیر یقینی صورتِ حال میں زندگی گزارتے ہیں۔ ان کے مطابق اپنی بیٹی کو ڈپٹی کمشنر کی کرسی پر بیٹھتے دیکھنا ان کی زندگی کے یادگار ترین لمحات میں سے ایک ہے۔
منیبہ مقصود کی والدہ نے بھی اس موقع کو اپنی زندگی کے فخر کے لمحات میں شامل قرار دیا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر راؤ عاطف رضا نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد بچوں کو دائمی بیماریوں خصوصاً تھیلیسیمیا کے خلاف جدوجہد کے لیے جذباتی حوصلہ اور اعتماد دینا ہے۔