Breaking News

امریکا اور ایران کے پھر ایک دوسرے پر حملے

امریکا اور ایران کے پھر ایک دوسرے پر حملے
۱ منٹ پہلے

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان کیا ہے کہ امریکی افواج نے ایران کے میزائل اور ڈرون ذخیرہ کرنے والے مقامات اور ساحلی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک تجارتی کارگو جہاز پر مبینہ ایرانی ڈرون حملے کے جواب میں کی گئی۔

 

امریکی صدر  ڈونلڈ ٹرمپ  نے کارگو جہاز پر مبینہ ایرانی حملے کو جنگ بندی کی ’احمقانہ خلاف ورزی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات خطے کے استحکام اور بحری تجارت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس  نے بھی مؤقف اختیار کیا کہ تشدد کا جواب دیا جائے گا۔

 

سینٹ کام کے بیان کے مطابق امریکی فضائی کارروائی میں ایران کے میزائل اور ڈرون سٹوریج مقامات اور ساحلی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی مؤقف یہ ہے کہ تجارتی جہاز رانی پر حملہ جنگ بندی کی خلاف ورزی اور بین الاقوامی آبی گزرگاہ میں نقل و حرکت کی آزادی کے خلاف اقدام تھا۔ امریکی فوج نے یہ بھی کہا کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گی۔

 

دوسری جانب  پاسدارن انقلاب  (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی بحریہ اور فضائیہ نے ایران کے شہر سیریک پر ہونے والے امریکی حملے کا مقابلہ کیا اور حملہ آور افواج کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔ ایرانی بیان کے مطابق امریکی حملے جنگ بندی اور سابقہ وعدوں کی خلاف ورزی تھے۔ ایران نے مزید دعویٰ کیا کہ اس کے جواب میں خطے میں امریکی فوجی تعیناتی کے مقامات کو نشانہ بنایا گیا، تاہم اہداف، نقصانات یا مقام سے متعلق تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

 

ایرانی مؤقف میں یہ بھی کہا گیا کہ آبنائے ہرمز میں ٹریفک کنٹرول سے متعلق بعض انتظامی ذمہ داریوں کا حوالہ دیا جا رہا ہے، جبکہ امریکہ اور مغربی ممالک اس آبی گزرگاہ کو بین الاقوامی تجارت کے لیے کھلا رکھنے پر زور دے رہے ہیں۔ اس مرحلے پر دونوں فریق ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگا رہے ہیں اور متعدد دعوؤں کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں