سدرہ بی بی قتل مقدمہ انسدادِ دہشتگردی عدالت منتقل،ملزمان کی دوبارہ گرفتاری کا فیصلہ
راولپنڈی میں مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کی جانے والی سدرہ بی بی کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے مقدمے میں انسدادِ دہشت گردی قانون کی دفعہ 7 اے ٹی اے شامل کر دی ہے، جس کے بعد مقدمہ سیشن عدالت سے انسدادِ دہشت گردی عدالت منتقل کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مقدمے میں جرگہ کے سربراہ اور سابق نائب چیئرمین یونین کونسل عصمت اللہ کو دوبارہ گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مقتولہ کے والد، بھائی، سسر، چچا اور دیگر ملزمان کو بھی دوبارہ گرفتار کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
مزید اطلاعات کے مطابق قبرستان کے گورکن، سیکرٹری اور لاش قبرستان منتقل کرنے والے ڈرائیور کو بھی نئی قانونی کارروائی کے تحت دوبارہ گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام ملزمان کی دوبارہ گرفتاری کے لیے انسدادِ دہشت گردی عدالت میں ان کی ضمانتیں منسوخ کرنے کی درخواستیں دائر کی جائیں گی۔ دوبارہ گرفتاری اور نئے تفتیشی عمل میں شامل کیے جانے کے خدشے کے باعث بعض ملزمان کے روپوش ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
ضلعی استغاثہ اور قانونی شاخ نے مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات شامل کرنے کی منظوری دے دی ہے، جبکہ اب مقدمے کی سماعت انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ کریں گے۔ استغاثہ کے مطابق سابقہ تفتیش منسوخ کر دی گئی ہے اور نئے سرے سے تفتیش مکمل کرنے کے بعد نیا چالان عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
پولیس کے مؤقف کے مطابق ملزمان نے مبینہ طور پر طلاق کے بعد دوبارہ شادی کرنے کے فیصلے پر سدرہ بی بی کے خلاف جرگہ میں قتل کا فیصلہ کیا تھا۔ الزام ہے کہ نومبر 2024 میں انہیں قتل کیا گیا اور بعد ازاں لاش کو ایک بڑے شاپر میں بند کر کے قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔ بعد میں واقعے کی تفصیلات سامنے آنے پر لاش برآمد کی گئی اور ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ دورانِ تفتیش بعض ملزمان نے اعترافِ جرم کیا، تاہم مقدمہ عدالتی کارروائی کے مرحلے میں ہے اور حتمی قانونی فیصلہ متعلقہ عدالت کی سماعت کے بعد سامنے آئے گا۔