World

سپین میں شدید گرمی کی لہر: 4 دن میں 212 اموات

سپین میں شدید گرمی کی لہر: 4 دن میں 212 اموات
۱ منٹ پہلے

سپین میں شدید گرمی کی لہر کے باعث رواں ہفتے کم از کم 212 اموات سامنے آئی ہیں۔ یہ تخمینہ میڈرڈ میں قائم انسٹیٹیوٹو دے سالود کارلوس سوم نے جاری کیا ہے، جس کے مطابق غیر معمولی درجۂ حرارت انسانی صحت پر سنگین اثرات مرتب کر رہا ہے۔

 

اعداد و شمار کے مطابق 2025ء میں انہی چار دنوں کے دوران 98 اموات سامنے آئی تھیں، جبکہ 2026ء میں یہ تعداد بڑھ کر 212 ہو گئی۔ اس اضافے کو ماہرین شدید گرمی کے بڑھتے اثرات اور بدلتے موسمی حالات سے جوڑ رہے ہیں۔

 

قومی مرکز برائے وبائیات (سی این ای) کے مطابق یہ ابتدائی اعداد و شمار ہیں اور ان کی حتمی تصدیق اور استحکام کے لیے تقریباً ایک ہفتہ درکار ہوتا ہے، اس لیے اموات کی مجموعی تعداد میں مزید تبدیلی آ سکتی ہے۔

 

ادارے سے وابستہ محقق ڈیانا گومیز کے مطابق جون کے مہینے میں اب تک عارضی طور پر شدید گرمی کے باعث 380 اموات ریکارڈ کی جا چکی ہیں، جن میں سے تقریباً 55 فیصد صرف حالیہ چار روزہ گرمی کی لہر کے دوران سامنے آئیں۔

 

دوسری جانب برطانیہ کے مختلف علاقوں میں بھی شدید گرمی برقرار ہے جبکہ انگلینڈ اور ویلز میں شدید گرمی کے باعث اعلیٰ درجے کا انتباہ جاری کیا گیا ہے۔

 

ماہرین کے مطابق یورپ میں سپین ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ اگرچہ ملک طویل عرصے سے گرم موسم کا عادی رہا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں گرمی کی لہروں کی شدت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور شدید گرمی کے ادوار کے درمیان وقفہ بھی کم ہوتا جا رہا ہے۔

 

سپین کے موسمیاتی ادارے کے مطابق جون 2026ء کے بعض دن 1950ء کے بعد ریکارڈ کیے گئے گرم ترین دنوں میں شامل ہو گئے ہیں، جبکہ جون 2025ء پہلے ہی ملک کی تاریخ کے گرم ترین مہینوں میں شمار کیا جا چکا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو مستقبل میں صحت، پانی اور روزمرہ زندگی کے مختلف شعبوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں