ثانیہ اشفاق کے نئے الزامات،عماد وسیم کا جواب
پاکستانی کرکٹر عماد وسیم کی سابقہ اہلیہ اور ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ سے وابستہ شخصیت ثانیہ اشفاق نے اپنی ازدواجی زندگی سے متعلق مزید دعوے اور الزامات سامنے رکھتے ہوئے سابق شوہر پر نامناسب رویے، ذہنی دباؤ اور بچوں سے عدم دلچسپی کے الزامات عائد کیے ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب گاہ انسٹاگرام پر جاری اپنے بیان میں ثانیہ اشفاق نے کہا کہ شادی کے دوران انہیں شدید ذہنی دباؤ اور حد سے زیادہ قابو رکھنے والے رویے کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں عماد وسیم نہ بچوں کے اخراجات اٹھانا چاہتے ہیں اور نہ ہی ان سے ملاقات یا گفتگو میں دلچسپی رکھتے ہیں، تاہم بچوں کی تحویل سے متعلق معاملات جاری ہیں۔
اپنے تفصیلی بیان میں انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ان کے اور بچوں کے ساتھ پیش آنے والے معاملات کے باوجود سابق شوہر کی جانب سے مختلف بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ حمل کے دوران انہیں دھوکا دیا گیا اور اس عرصے میں مسلسل دباؤ اور قابو رکھنے والے طرزِ عمل نے ان کی زندگی کو مشکل بنا دیا۔
ثانیہ اشفاق نے مزید کہا کہ جولائی 2025ء میں برطانیہ میں بعض الزامات کے تناظر میں گرفتاری کا معاملہ بھی پیش آیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہیں اپنا بیان واپس لینے کے لیے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا اور بعض معاملات میں سماجی بہبود کے اداروں کو بھی مداخلت کرنا پڑی۔
انہوں نے اپنے بیان میں مزید لکھا کہ حالیہ دنوں میں سماجی کارکنوں نے عماد وسیم سے بچوں سے رابطے کے بارے میں پوچھا لیکن ان کے مطابق کوئی جواب سامنے نہیں آیا۔ ثانیہ اشفاق نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ کھڑی رہیں گی اور ان کی حفاظت کو ترجیح دیں گی۔
دوسری جانب عماد وسیم نے بھی عوامی سطح پر اپنا مؤقف پیش کیا۔ انسٹاگرام پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ طلاق ان کی اپنی وجوہات کی بنیاد پر ہوئی اور اب وہ اس معاملے کو ختم شدہ باب سمجھتے ہیں۔ انہوں نے اپنی موجودہ اہلیہ نائلہ راجہ کو اس تنازع سے دور رکھنے کا مطالبہ کیا۔
عماد وسیم نے کہا کہ موجودہ اہلیہ کا اس تنازع سے کوئی تعلق نہیں اور وہ ان کی زندگی میں علیحدگی کے بعد شامل ہوئیں۔ انہوں نے سابقہ اہلیہ سے اپیل کی کہ اس معاملے کو عوامی سطح پر مزید نہ بڑھایا جائے اور کہا کہ یہ اس موضوع پر ان کا آخری عوامی بیان ہے۔
واضح رہے کہ مذکورہ الزامات اور جوابی مؤقف متعلقہ فریقین کے عوامی بیانات پر مبنی ہیں اور ان دعوؤں سے متعلق کسی عدالتی فیصلے یا آزادانہ تصدیق کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔