خواتین کھلاڑیوں کے ساتھ جنس کی بنیاد پرسخت رویّہ اپنایا جاتا ہے، ثناء میر
پاکستان ویمن ٹیم کی سابق کپتان ثناء میر نے قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی کارکردگی پر تنقید کرنے والوں کے رویّے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کھلاڑیوں کے ساتھ کارکردگی کے بجائے جنس کی بنیاد پر زیادہ سخت رویّہ اختیار کیا جاتا ہے۔
اپنے بیان میں ثناء میر نے سوال اٹھایا کہ کیا مردوں کی ٹیمیں عالمی مقابلوں میں شکست سے دوچار نہیں ہوتیں اور کیا ان کی کارکردگی میں اتار چڑھاؤ نہیں آتا؟ انہوں نے کہا کہ خواتین کھلاڑیوں کو بعض اوقات ایسے تبصروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن کا کھیل سے تعلق نہیں ہوتا۔
سابق کپتان نے کہا کہ انہوں نے کبھی کسی خاتون کرکٹر کو مرد کرکٹرز کے بارے میں اس نوعیت کے تبصرے کرتے نہیں دیکھا، لیکن خواتین کھلاڑیوں کے بارے میں غیر متعلق اور توہین آمیز باتیں عام کر دی جاتی ہیں۔
ثناء میر نے سوشل ذرائع ابلاغ پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ جعلی ویڈیوز اور غلط معلومات پھیلانے کے رجحان پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کرکٹرز کے بارے میں جھوٹی اور گمراہ کن مواد تیار کر کے پھیلایا جاتا ہے، جو نہ صرف کھلاڑیوں بلکہ مجموعی کھیل کے ماحول کے لیے نقصان دہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ موجودہ سماجی سوچ ہے اور جب تک اس سوچ میں تبدیلی نہیں آئے گی، خواتین کے کھیل اور ان کے لیے مساوی مواقع کے حصول میں بہتری لانا مشکل رہے گا۔
ثناء میر کے مطابق کھیل میں تنقید کارکردگی کی بنیاد پر ہونی چاہیے، لیکن ذاتی حملوں، صنفی تعصب اور غلط معلومات سے گریز ضروری ہے تاکہ صحت مند کھیل کا ماحول فروغ پا سکے۔