Pakistan

مقررہ طریقہ کے بغیر پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں نام شامل کرنا غیرقانونی ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ

مقررہ طریقہ کے بغیر پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں نام شامل کرنا غیرقانونی ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ
۱ منٹ پہلے

اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہریوں پر سفری پابندیوں سے متعلق ایک اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ کسی بھی شہری کا نام قانونی اختیار اور مقررہ طریقہ کار کے بغیر پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔

 

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محمد اعظم خان نے ترکیہ سے واپس بھیجے جانے والے شہری زین عتیق کے مقدمے میں پانچ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے شہری زین عتیق کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم بھی دے دیا۔

 

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ شہریوں پر سفری پابندیاں صرف قانونی اختیار اور طے شدہ طریقہ کار کے تحت ہی عائد کی جا سکتی ہیں۔ فیصلے کے مطابق جولائی 2022 میں شہری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں شہری کی درخواست پر وفاقی تحقیقاتی ادارے نے دو سال سے زائد عرصہ گزرنے کی بنیاد پر نام نکالنے کی سفارش کی۔ اس کے باوجود پاسپورٹ اتھارٹی نے عدم پیروی کی بنیاد پر درخواست مسترد کر دی۔

 

عدالت نے کہا کہ اگر کسی شخص کو غیرقانونی داخلے یا کسی ممنوعہ عمل کی وجہ سے دوسرے ملک سے واپس بھیجا گیا ہو تو صرف اسی بنیاد پر اسے غیرمعینہ مدت تک پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل نہیں رکھا جا سکتا، جب تک کسی مجاز ادارے کی واضح منظوری موجود نہ ہو۔

 

عدالتی فیصلے کے مطابق ریکارڈ پر ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں تھا جس سے ظاہر ہو کہ درخواست گزار کے خلاف پاکستان یا ترکیہ میں کوئی سزا، زیرِ سماعت فوجداری مقدمہ یا کوئی قانونی رکاوٹ موجود تھی جو پابندی برقرار رکھنے کا جواز فراہم کرے۔

 

عدالت نے مزید کہا کہ سابقہ عدالتی فیصلے، یعنی شیریں مزاری مقدمے میں بھی قرار دیا گیا تھا کہ شہریوں پر سفری پابندیاں صرف قانونی اختیار اور مقررہ طریقہ کار کے مطابق ہی عائد کی جا سکتی ہیں۔ موجودہ مقدمے میں متعلقہ حکام اس قانونی معیار کو پورا کرنے میں ناکام رہے۔

 

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اگرچہ حتمی اختیار پاسپورٹ اتھارٹی کے پاس ہوتا ہے، تاہم وفاقی تحقیقاتی ادارے کی سفارشات کو مناسب قانونی وجوہات کے بغیر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار کے خلاف کوئی فوجداری کارروائی زیرِ التوا نہیں، نہ ہی کسی مجاز عدالت کی سزا موجود ہے اور نہ ہی کوئی اور قانونی بنیاد موجود ہے، اس لیے اس کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں