ٹرمپ کی خاتون صحافی کو ہرجانہ دینےکا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی درخواست مسترد
امریکا کی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنسی استحصال اور ہتکِ عزت کے مقدمے میں سابق خاتون صحافی کے حق میں 50 لاکھ ڈالر ہرجانے کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی درخواست مسترد کر دی۔
سپریم کورٹ نے ٹرمپ کی اپیل کو سماعت کے لیے منظور کرنے سے انکار کر دیا، جس کے بعد نچلی عدالت کا فیصلہ برقرار رہا۔
یہ مقدمہ 9 مئی 2023ء میں اس وقت نمایاں ہوا تھا جب نیویارک کی وفاقی سول عدالت نے قرار دیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ 1996ء میں ایک ڈپارٹمنٹل اسٹور کے فٹنگ روم میں صحافی ای جین کیرول کے ساتھ جنسی زیادتی اور بعد ازاں ہتکِ عزت کے مرتکب ہوئے تھے۔
جیوری نے فیصلے میں 20 لاکھ ڈالر جنسی زیادتی اور 30 لاکھ ڈالر ہتکِ عزت کے ازالے کے طور پر ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کے ذرائع پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے مقدمے کو جعلی قرار دیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ ای جین کیرول سے کبھی نہیں ملے اور کہا کہ وہ مقدمے اور ہتکِ عزت کے فیصلے کے خلاف قانونی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
دوسری جانب ای جین کیرول کی وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ اس امر کی حتمی توثیق ہے کہ جیوری نے متفقہ طور پر ٹرمپ کو جنسی زیادتی اور ہتکِ عزت کا ذمے دار قرار دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی تمام اپیلیں ناکام ہو چکی ہیں اور اب وہ قانونی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتے۔
ای جین کیرول، جن کی عمر اس وقت 82 برس ہے، نے 2019ء میں شائع ہونے والی اپنی کتاب میں پہلی بار الزام عائد کیا تھا کہ 1996ء میں ٹرمپ نے ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی تھی، تاہم ٹرمپ نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔