عالمی فوجداری عدالت نے طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اور چیف جسٹس عبدالحکیم کے وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیے
عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے افغانستان میں طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ اور چیف جسٹس عبدالحکیم حقانی کے وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔
عدالت نے کہا کہ مبینہ جرائم کا ہدف وہ خواتین، لڑکیاں اور افراد تھے جو طالبان کی صنفی پالیسیوں، صنفی شناخت یا اظہار سے مطابقت نہیں رکھتے تھے یا جنہیں خواتین کے حقوق کی حمایت کرنے والا سمجھا جاتا تھا۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق عدالت میں دونوں رہنماؤں پر انسانیت کے خلاف جرائم کے تحت خواتین، لڑکیوں اور دیگر افراد کے خلاف صنفی اور سیاسی بنیادوں پر ظلم و ستم کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
آئی سی سی کے مطابق پری ٹرائل چیمبر دوم نے اس بات کے معقول شواہد دیکھے ہیں کہ دونوں رہنما 15 اگست 2021 کو طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے صنفی بنیادوں پر ظلم و ستم کے احکامات دینے، اس کی ترغیب دینے یا اس میں کردار ادا کرنے کے ذمہ دار ہو سکتے ہیں۔
عالمی فوجداری عدالت نے مارچ 2020 میں افغانستان میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی تحقیقات کی اجازت دی تھی، جس کے بعد ابتدائی طور پر اس فیصلے کو واپس بھی لیا گیا تھا۔ یہ تحقیقات یکم مئی 2003 سے افغانستان کی سرزمین پر ہونے والے جرائم کے ساتھ ساتھ ان جرائم کا بھی احاطہ کرتی ہیں جو تنازع سے منسلک دیگر ریاستوں میں کیے گئے۔
اکتوبر 2022 میں عدالت نے استغاثہ کو دوبارہ تحقیقات شروع کرنے کی اجازت دی کیونکہ افغان حکام کی جانب سے مؤثر قومی تحقیقات نہ ہونے کا فیصلہ سامنے آیا تھا۔
نومبر 2024 میں 6 ممالک چلی، کوسٹا ریکا، اسپین، فرانس، لکسمبرگ اور میکسیکو نے افغانستان کی صورتحال کو عالمی فوجداری عدالت کے استغاثہ کے پاس بھیجا جس سے تحقیقات کو مزید تقویت ملی۔
23 جنوری 2025 کو عالمی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر کریم خان نے اخوندزادہ اور حقانی کے خلاف انسانیت کے خلاف جرائم کے تحت وارنٹِ گرفتاری کی درخواست دی تھی۔
بعد ازاں 8 جولائی 2025 کو پری ٹرائل چیمبر دوم نے باضابطہ طور پر یہ وارنٹ جاری کیے۔
آئی سی سی کے مطابق معقول شواہد موجود ہیں کہ دونوں رہنما طالبان حکومت کے عملی اختیارات رکھتے ہیں اور انہوں نے خواتین اور لڑکیوں کے خلاف منظم امتیازی پالیسیوں کو نافذ کرنے میں کردار ادا کیا۔
یہ پالیسیاں ان افراد کے خلاف بھی تھیں جو صنفی شناخت یا اظہار کے حوالے سے طالبان کے مؤقف سے اختلاف رکھتے تھے یا جنہیں خواتین کے حقوق کا حامی سمجھا جاتا تھا۔
عدالت نے واضح کیا کہ یہ اقدامات روم اسٹیچیوٹ کے آرٹیکل 7(1)(h) کے تحت انسانیت کے خلاف جرم یعنی صنفی بنیادوں پر ظلم و ستم کے زمرے میں آتے ہیں۔
یاد رہے کہ ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ 2016 سے افغان طالبان کے سپریم لیڈر ہیں اور 2021 میں افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد ملک کے عملی سربراہ بن گئے۔ وہ ’امیر المومنین‘ کے لقب سے جانے جاتے ہیں اور تنظیم کے اہم ترین فیصلوں پر حتمی اختیار رکھتے ہیں۔