اسرائیل،اذان پر پابندی کے بل کی ابتدائی منظوری
اسرائیلی پارلیمان (کنیسٹ) نے ایک متنازع بل کی ابتدائی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت مساجد سے لاؤڈ اسپیکرز کے ذریعے اذان نشر کرنے پر پابندی عائد کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس اقدام پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں اور بین الاقوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ بل نام نہاد "مساجد کے شور" کے خلاف قانون سازی کی کوشش کا حصہ ہے، جسے کنیسٹ میں 50 کے مقابلے میں 36 ووٹوں سے ابتدائی منظوری دی گئی۔
یہ مسودۂ قانون انتہائی دائیں بازو کی جماعت اوٹزما یہودیت (Otzma Yehudit) کی جانب سے پیش کیا گیا، جس کی قیادت اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر کر رہے ہیں۔ اس بل کو اپوزیشن جماعت یسرائیل بیتینو کی بھی حمایت حاصل ہوئی۔
دوسری جانب فلسطینی نیشنل کونسل کے سربراہ روحی فتوح نے اس اقدام کو "جرم" اور "قانونی دہشتگردی" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مذہبی آزادی اور عقیدے کے بنیادی حق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ بل ابھی قانون نہیں بنا اور اسے نافذ ہونے سے قبل اسرائیلی پارلیمان میں مزید تین مراحل سے گزرنا ہوگا۔
اسرائیلی چینل 14 کے مطابق مجوزہ قانون میں یہ شرط بھی شامل ہے کہ کسی بھی مسجد میں آواز کے نظام کو استعمال کرنے سے قبل متعلقہ حکام سے واضح اجازت لینا لازمی ہوگی۔