World

امریکی صدر بنتے ہی ٹرمپ کی دولت میں ریکارڈ اضافہ

امریکی صدر بنتے ہی ٹرمپ کی دولت میں ریکارڈ اضافہ
۱ منٹ پہلے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد ان کی دولت میں حیران کن حد تک اضافہ ہوا ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری کی گئی نئی مالیاتی رپورٹ کے مطابق فلوریڈا میں واقع ٹرمپ کے دو بڑے تفریحی مقامات اور ہوٹلوں نے آمدنی کے گزشتہ تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔

 

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق، رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ کی صدارت اور ان کے ذاتی کاروبار ایک دوسرے کے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہے ہیں۔

 

رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کے آغاز سے اب تک صدر ٹرمپ 25 سے زائد مرتبہ اپنے ہوٹلوں اور کلبوں کا دورہ کر چکے ہیں، جہاں انہوں نے عالمی رہنماؤں کی میزبانی کی، اپنی جماعت کے لیے لاکھوں ڈالر مالیت کی فنڈ ریزنگ تقریبات منعقد کیں اور بڑے کاروباری شخصیات کی ضیافتیں بھی کیں۔

 

ڈونلڈ ٹرمپ نے دوبارہ صدر منتخب ہونے سے کچھ عرصہ قبل اپنے مشہور کلب مار اے لاگو کی رکنیت فیس بڑھا کر 10 لاکھ ڈالر کر دی، جس سے ان کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوا۔

 

صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم کے صدر رابرٹ وائزمین کا کہنا ہے کہ لوگ ٹرمپ کے کلبوں میں اس لیے جاتے ہیں کیونکہ وہ صدر کے قریب ہونا چاہتے ہیں۔ ان کے بقول صدر تک رسائی کی اہمیت اس فیس سے کہیں زیادہ ہے جو لوگ کلب میں داخلے کے لیے ادا کرتے ہیں۔

 

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نہ صدر اور نہ ہی ان کے خاندان نے کبھی مفادات کے ٹکراؤ کا کوئی اقدام کیا ہے، اور نہ آئندہ کریں گے۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے تمام فیصلے صرف امریکی عوام کے بہترین مفاد میں کیے جاتے ہیں۔

 

یاد رہے کہ صدر بننے سے قبل ٹرمپ نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنے کاروباری معاملات خود نہیں چلائیں گے، اور انہوں نے اپنے تمام کاروباری اثاثے ایک ٹرسٹ کے حوالے کر دیے تھے، جسے ان کے بچے چلاتے ہیں۔

 

سرکاری رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے گزشتہ سال صرف اپنے کلب مار اے لاگو سے تقریباً 7 کروڑ 75 لاکھ ڈالر کمائے، جو اس سے گزشتہ سال کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ اور 2020 کی آمدنی سے تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔

 

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اب ٹرمپ کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ان کے ہوٹل اور گالف کلب نہیں بلکہ کرپٹو کرنسی بن چکی ہے۔ انہوں نے گزشتہ سال کرپٹو کرنسی سے 1.4 ارب ڈالر سے زائد کمائے، جو ان کے تمام گالف کلبوں، ہوٹلوں اور ریزورٹس کی مجموعی آمدنی سے بھی تین گنا زیادہ ہے۔

 

اس کے علاوہ انہوں نے ویتنام اور بھارت میں رئیل اسٹیٹ کمپنیوں کو اپنا نام استعمال کرنے کی اجازت دینے کے معاہدوں سے بھی تقریباً 6 کروڑ ڈالر کمائے۔

 

بدھ کے روز صحافیوں نے جب ٹرمپ سے ان کی بڑھتی ہوئی دولت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا، ’’آپ جانتے ہیں مجھے فائدہ کیوں ہو رہا ہے؟ کیونکہ اسٹاک مارکیٹ اوپر جا رہی ہے، اور جب مارکیٹ اوپر جاتی ہے تو سب کو فائدہ ہوتا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’میں ان لوگوں سے کبھی بات نہیں کرتا جو میرے مالی معاملات سنبھالتے ہیں۔‘‘

 

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے کلبوں میں ایسے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جو ان کی حکومت سے کاروباری فوائد حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔ یہاں تک کہ فائزر سمیت بڑی دوا ساز کمپنیوں کے اعلیٰ حکام اور سرکاری ٹھیکے حاصل کرنے والی دیگر کمپنیوں نے بھی ٹرمپ کے دوبارہ صدر بننے سے قبل ان کے کلبوں میں اہم ملاقاتیں کیں۔

 

ٹرمپ نے انہی مقامات پر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور یوکرینی صدر وولودی میر زیلنسکی سمیت کئی عالمی رہنماؤں کی میزبانی بھی کی، جس کے باعث ان کے یہ کاروباری مراکز اب امریکی سیاست اور عالمی سفارت کاری کے اہم مراکز بن چکے ہیں۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں