پاکستان میں ’کار کلچر‘نے پیدل چلنے والوں کی زندگی مشکل بنا دی،روبینہ اشرف
پاکستان کی معروف اداکارہ روبینہ اشرف نے پاکستانی معاشرے، شہری منصوبہ بندی، ٹریفک کلچر اور طرزِ زندگی پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں گاڑیوں پر ضرورت سے زیادہ انحصار، ناقص شہری منصوبہ بندی اور کمزور شہری ثقافت نے عام شہریوں، خصوصاً پیدل چلنے والوں، کی زندگی کو دشوار بنا دیا ہے۔
ایک انٹرویو میں روبینہ اشرف نے کراچی اور لاہور کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ لاہور کی خوبصورتی اور شہری ترقی قابلِ تعریف ہے، جبکہ کراچی میں پیدل چلنے والوں کے لیے حالات انتہائی نامساعد ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب مختصر فاصلے پیدل طے کرنا بھی تشویش کا باعث بن چکا ہے۔ اگر چند قدم کے فاصلے پر کسی دکان تک جانا ہو تو بھی یہ سوچنا پڑتا ہے کہ بیگ ساتھ لے جانا محفوظ ہوگا یا نہیں، کیونکہ چھینے جانے کا خدشہ ہر وقت موجود رہتا ہے۔
روبینہ اشرف کا کہنا تھا کہ شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، لیکن بدقسمتی سے ایسا ماحول میسر نہیں۔
انہوں نے کراچی کی شہری منصوبہ بندی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں پیدل چلنے والوں کے لیے مناسب فٹ پاتھ تقریباً ناپید ہیں۔ ان کے مطابق پوش علاقوں میں بھی جہاں فٹ پاتھ موجود ہیں، وہاں تنگ سڑکیں اور بے ہنگم پارکنگ پیدل چلنے والوں کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہیں۔
اداکارہ نے کہا کہ پاکستان ایک "زہریلے کار کلچر" کا شکار ہو چکا ہے، جہاں لوگ مختصر فاصلے بھی گاڑی کے ذریعے طے کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی دوست چند قدم کے فاصلے پر رہتا ہو تو گاڑی استعمال کرنے کے بجائے پیدل جانا چاہیے اور تازہ ہوا سے لطف اندوز ہونا چاہیے۔
روبینہ اشرف نے پاکستان میں مؤثر پبلک ٹرانسپورٹ نظام کی عدم موجودگی پر بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک مہذب معاشرے میں اداکاروں، کھلاڑیوں اور سیاست دانوں کا بسوں اور ٹرینوں میں سفر کرنا معمول کی بات ہونی چاہیے۔
انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ عوامی مقامات کو دوبارہ اپنے استعمال میں لائیں اور زیادہ سے زیادہ پیدل چلنے کی عادت اپنائیں۔
اداکارہ نے مشورہ دیا کہ گھر سے نقد رقم ساتھ لے جانے کے بجائے صرف بینک کارڈ رکھیں اور پیدل چلنا شروع کریں۔ ان کے مطابق اگر زیادہ لوگ سڑکوں پر آئیں گے تو بالآخر نظام کو ایسے شہر بنانے پر مجبور ہونا پڑے گا جو گاڑیوں کے بجائے انسانوں کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہوں۔