ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ میں ترامیم وقت کا تقاضا ہے: شزا فاطمہ خواجہ
وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ میں ترامیم جدید دور کی ضرورت ہیں اور حکومت تمام اسٹیک ہولڈرز کے اتفاقِ رائے سے قانون سازی کر رہی ہے۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شزا فاطمہ نے کہا کہ ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ ڈیٹا کی ضرورت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، اسی لیے موجودہ قوانین کو وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے دنیا کی سب سے بڑی اسپیکٹرم آکشنز میں سے ایک کامیابی سے مکمل کی، جس کے بعد نظام میں مزید بہتری لانے کے لیے قانونی اصلاحات ناگزیر ہو گئی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجوزہ بل کے حوالے سے لگائے جانے والے الزامات پر شفاف تحقیقات کے لیے وزیراعظم سے انکوائری کرانے کی درخواست کی گئی ہے تاکہ تمام خدشات دور کیے جا سکیں۔
اس موقع پر وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ تحقیقاتی کمیٹی کو بل کے ذریعے کسی مخصوص کمپنی کو فائدہ پہنچانے کے الزامات کے حوالے سے کوئی ثبوت نہیں ملا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ڈیجیٹل معیشت کی جانب بڑھ رہا ہے جہاں تعلیم، فری لانسنگ اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے مضبوط ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی ناگزیر ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ کمیٹی نے بل میں موجود تمام خامیوں کو دور کرنے کی سفارش کی ہے، جبکہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی توسیع کے لیے پبلک پراپرٹی کے استعمال کو مفت کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نجی املاک کے استعمال سے متعلق الگ کیٹیگریز مقرر کی جائیں گی اور کمیٹی کی حتمی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کر دی گئی ہے۔