Pakistan

مریم نواز کی سیلاب اور مون سون سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیاریوں کی ہدایت

مریم نواز کی سیلاب اور مون سون سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیاریوں کی ہدایت
۱۱ منٹ پہلے

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے متعلقہ تمام اداروں کو ہدایت دی ہے کہ آئندہ مون سون اور ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری رکھیں، کیونکہ شدید گرمی اور موسمیاتی تبدیلی اب ایک حقیقت بن چکی ہے۔

 

پنجاب میں سیلاب اور مون سون کی تیاریوں سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ آئندہ تین ماہ کے دوران درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کا امکان ہے اور بعض علاقوں میں یہ 52 سے 55 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ مختلف علاقوں میں اچانک موسلا دھار بارشیں بھی متوقع ہیں۔

 

انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ تمام ضروری انتظامات فوری مکمل کیے جائیں، عوام کو بروقت آگاہ کیا جائے، کسانوں کی رہنمائی کی جائے اور ہر محکمہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار رہے۔

 

مریم نواز نے محکمہ موسمیات، محکمہ ہاؤسنگ، محکمہ زراعت، محکمہ لائیو اسٹاک، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے)، ریسکیو 1122، محکمہ صحت اور محکمہ آبپاشی سمیت تمام اداروں کی مشترکہ کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق اور محکمہ آبپاشی کی کارکردگی کی بھی تعریف کی۔

 

وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ عوام کو مسلسل احتیاطی ہدایات جاری کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ شدید گرمی کے باعث لوگ نہروں، دریاؤں اور دیگر آبی ذخائر میں نہانے جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں کئی افسوسناک حادثات پیش آتے ہیں۔

 

انہوں نے بزرگوں، خواتین اور بچوں کو آبی ذخائر کے قریب جانے سے روکنے اور گرمی سے بچاؤ کے لیے مسلسل آگاہی مہم چلانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ دھوپ میں نکلتے وقت سر اور گردن کو ڈھانپیں اور جسم میں پانی کی کمی سے بچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ پانی اور دیگر مشروبات استعمال کریں۔

 

مریم نواز نے کہا کہ پنجاب حکومت ہیٹ ویو سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انسانوں کے ساتھ ساتھ مویشیوں کے تحفظ پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، ان کے لیے پانی کی فراہمی اور مون سون سے قبل حفاظتی ویکسینیشن کا عمل بھی جاری ہے۔

 

اس سے قبل وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے وزیراعلیٰ سے ملاقات کی، جس میں مون سون، سیلاب سے نمٹنے کی تیاریوں اور موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

 

اجلاس میں پنجاب کلائمیٹ اینڈ ڈیزاسٹر ریزیلینس پلان 2026 پیش کیا گیا۔ وفاق اور پنجاب کے درمیان ارلی وارننگ سسٹم کو مزید مؤثر بنانے اور کسی بھی شدید موسمی صورتحال سے کم از کم چھ گھنٹے قبل باہمی رابطہ یقینی بنانے پر اتفاق کیا گیا۔

 

اجلاس میں پنجاب کے تمام اضلاع اور تحصیلوں میں کلائمیٹ اور فلڈ سے متعلق سینٹرلائزڈ انفارمیشن اسکرینز نصب کرنے، مون سون سے قبل موک ایکسرسائزز شروع کرنے اور پی ڈی ایم اے اور این ڈی ایم اے کے درمیان رابطے کو مزید مضبوط بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

 

وزیراعلیٰ نے متعلقہ اداروں کو بارشوں، ہیٹ ویو اور دیگر شدید موسمی حالات سے متعلق جامع ایڈوائزری جاری کرنے، سیلاب سے نمٹنے کے لیے ضلعی لاجسٹکس مضبوط بنانے اور حساس علاقوں میں کنٹرولڈ ٹورازم یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

 

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سیلاب کے دوران متاثرین کو بروقت طبی سہولیات، خوراک، رہائش اور دیگر ضروری امداد فراہم کی گئی تھی جبکہ کسی بڑی وبا کا پھیلاؤ نہیں ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، واسا اور دیگر اداروں کی استعداد میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے اور واٹر اسٹوریج کی گنجائش بڑھانے پر بھی کام جاری ہے۔

 

وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے موسمیاتی تبدیلی، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور فلڈ ریسپانس کے حوالے سے پنجاب حکومت کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر وفاقی حکومت تمام صوبوں کے ساتھ مل کر موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے اور پنجاب کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔

 

اجلاس میں گزشتہ سال کے فلڈ آپریشن کا بھی جائزہ لیا گیا اور مستقبل میں شدید موسمی حالات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں