تیزی سے بڑھتی آبادی معیشت اور وسائل کے لیے بڑا چیلنج،احسن اقبال
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان میں تیزی سے بڑھتی آبادی معیشت، وسائل اور عوام کی زندگی کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں نیشنل پاپولیشن کونسل قائم کی گئی ہے تاکہ آبادی میں توازن، انسانی ترقی اور پائیدار معاشی نمو کے لیے مربوط قومی حکمتِ عملی پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
احسن اقبال کے مطابق نیشنل پاپولیشن کونسل ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے اور اس حوالے سے مؤثر پالیسی سازی کے لیے کام کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے آبادیاتی مستقبل کا فیصلہ صرف آبادی کی تعداد نہیں بلکہ مؤثر پالیسیاں کریں گی، جبکہ آبادی میں استحکام اور انسانی وسائل کی ترقی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ قومی ترقی کے ایجنڈے میں آبادی کا مسئلہ اولین ترجیح ہونا چاہیے کیونکہ مؤثر آبادیاتی منصوبہ بندی کے بغیر معاشی اہداف حاصل نہیں کیے جا سکتے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کا اصل چیلنج آبادی کی تعداد نہیں بلکہ بروقت اور درست منصوبہ بندی ہے، اس لیے آبادی، تعلیم، صحت اور روزگار کو ایک جامع قومی حکمتِ عملی کے تحت آگے بڑھانا ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ دنیا کی آبادی 8.2 ارب جبکہ پاکستان کی آبادی تقریباً 25 کروڑ 90 لاکھ ہو چکی ہے اور پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا آبادی والا ملک ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان میں آبادی بڑھنے کی سالانہ شرح 2.55 فیصد ہے جبکہ شرح پیدائش جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ 3.6 ہے۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو 2050 تک پاکستان کی آبادی تقریباً 39 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تیزی سے بڑھتی آبادی پانی، خوراک، علاج، تعلیم، رہائش اور روزگار پر مسلسل دباؤ بڑھا رہی ہے، اسی لیے خاندانی منصوبہ بندی کو قومی بجٹ، معاشی منصوبوں اور ترقیاتی پالیسی کا اہم حصہ بنایا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر تقریباً 40 فیصد بچے غذائی کمی کے باعث جسمانی نشوونما میں پیچھے رہ جاتے ہیں، جبکہ آبادی میں اضافے کے اثرات آنے والی نسلوں تک پہنچتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی، پانی کی کمی اور خوراک کے مسائل سے نمٹنے کے لیے آبادی میں توازن ضروری ہے۔ ان کے مطابق درست منصوبہ بندی، انسانی وسائل میں سرمایہ کاری اور بہتر فیصلوں کے ذریعے بڑھتی آبادی کو قومی طاقت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر سال پاکستان کی آبادی میں تقریباً نیوزی لینڈ کے برابر جبکہ ہر دو سال میں آسٹریلیا کے برابر افراد کا اضافہ ہو رہا ہے، جو فوری اور مؤثر اقدامات کا تقاضا کرتا ہے۔
احسن اقبال نے وفاق، صوبوں، متعلقہ اداروں، علما، ماہرینِ صحت، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی پر مشتمل مشترکہ اور مربوط اقدامات پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ آبادی میں توازن اور انسانی وسائل کی ترقی کو قومی ترجیح بنائے بغیر پائیدار ترقی، معاشی استحکام اور خوشحال پاکستان کا خواب مکمل نہیں ہو سکتا، اور قومی سطح پر آبادی میں استحکام کی مہم کو مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے۔