امریکا کا طالبان سے زیر حراست امریکی شہریوں کی فوری رہائی کا مطالبہ
امریکی محکمہ خارجہ نے طالبان پر امریکی شہریوں کو یرغمال بنانے کی پالیسی جاری رکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے افغانستان میں زیر حراست تمام امریکی شہریوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ امریکی شہریوں کا تحفظ، دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں اور افغان خواتین کے حقوق کا دفاع اس کی افغانستان پالیسی کی اہم ترجیحات ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان الزبتھ اسٹکنی نے افغانستان انٹرنیشنل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ طالبان اب بھی امریکی شہریوں کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھے ہوئے ہیں اور افغانستان میں غلط طور پر زیر حراست تمام امریکی شہریوں کو فوری طور پر رہا کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے لیے امریکی شہریوں کا تحفظ اور امریکا کے قومی مفادات کا دفاع افغانستان سے متعلق پالیسی کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔
الزبتھ اسٹکنی نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف کارروائی بھی افغانستان کے حوالے سے امریکا کے اہم قومی مفادات میں شامل ہے اور واشنگٹن اس معاملے پر مسلسل توجہ دے رہا ہے۔
انہوں نے افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کی صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ طالبان کو ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرنی چاہییں۔ ان کے مطابق افغان خواتین اور بچیوں کو تعلیم، روزگار اور دیگر بنیادی حقوق سے محروم کرنا ناقابل قبول ہے۔
افغانستان کی موجودہ صورتحال میں تبدیلی کے لیے امریکی حکمت عملی سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ واشنگٹن اس معاملے پر فعال انداز میں کام کر رہا ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
طالبان حکومت کی جانب سے امریکی محکمہ خارجہ کے ان الزامات پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔